🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
جب اللہ کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اسے جنت والوں کے عمل پر لگا دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4045
أخبرنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا القعنبي ويحيى بن بكير، عن مالك، عن زيد بن أبي أنيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن مسلم بن يسار الجهني: أن عمر بن الخطاب سُئل عن هذه الآية: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (2)[الأعراف: 172] ، فقال عمر بن الخطاب: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنّ الله خَلَقَ آدمَ، ثم مسح ظهره، بيمينه، فاستخرج منه ذُرِّيَّةً، فقال: خلقتُ هؤلاء للجنة، وبعمل أهل الجنة يعملون، ثم مسح ظهره، فاستخرج منه ذُرِّيةً، فقال: خلقت هؤلاء للنار، وبعمل أهل النار يعملون"، فقال رجلٌ: يا رسول الله، ففيم العمل؟ قال:"إنَّ الله إذا خلَقَ العبد للجنة، استعمله بعمل أهل الجنة [حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة] (1) فيدخل الجنةَ، وإذا خَلَقَ العبد للنارِ، استعمله بعمل أهل النار حتى يموتَ على عمل أهل النار، فيدخل النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4001 - على شرط البخاري ومسلم
مسلم بن یسار جہنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [سورة الأعراف: 172] ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے ان کی پیٹھ پر مسح کیا، تو اس سے ایک ذریت نکالی اور فرمایا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے اعمال کریں گے، پھر اس نے ان کی پیٹھ پر مسح کیا اور اس سے ایک اور ذریت نکالی اور فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں والے اعمال کریں گے۔ تو ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے، تو اس سے جنتیوں والے اعمال کرواتا ہے یہاں تک کہ وہ اہل جنت کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے، پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے، اور جب وہ کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے، تو اس سے جہنمیوں والے اعمال کرواتا ہے یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4045]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن يسار الجهني، ولإرساله، لأنَّ مسلمًا هذا روايته عن عمر، مرسلة، كما جزم به أبو زرعة، وقد زاد فيه غير الإمام مالك بينه وبين عمر رجلًا هو نُعيم بن ربيعة، ونعيم هذا لا يُعرف أيضًا.»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں