🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. شَهَادَةُ نَبِيِّنَا وَأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِبْلَاغِ نُوحٍ قَوْمَهُ
قیامت کے دن سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم تک پیغام پہنچانے پر ہمارے نبی ﷺ اور ان کی امت کی گواہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
أخبرنا الحَسَن بن محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنَبِّه، قال: وذَكَرَ الحسن بن أبي الحسن عن سبعة رهطٍ شهدوا بدرًا، قال وهب: وقد حدثني عبد الله بن عبّاس، كلُّهم رفعوا الحديث إلى رسول الله ﷺ:"إنَّ الله يدعو نوحًا وقومه يوم القيامة أول الناسِ، فيقول: ماذا أجبتُم نوحًا؟ فيقولون: ما دعانا وما بَلغَنا ولا نَصَحَنا، ولا أمرنا ولا نَهانا، فيقول نوحٌ: دعوتُهم يا رب دعاءً فاشيًا في الأولين والآخرين، أمّةً بعد أمةٍ، حتى انتهى إلى خاتم النبيين أحمد، فانتسَخَه وقرأه وآمَنَ به وصدقه، فيقولُ الله للملائكة: ادعوا أحمدَ وأُمته، فيأتي رسولُ الله ﷺ وأمتُه يَسعى نُورُهم بين أيديهم، فيقول نوح لمحمدٍ وأمته: هل تعلمون أني بلغتُ قومي الرسالة، واجتهدتُ لهم بالنصيحة، وجَهَدتُ أن أستنقذهم من النار سِرًا وجهارًا، فلم يَزِدْهُم دُعائي إلا فرارًا؟ فيقول رسول الله وأمته: فإنا نشهد بما نَشَدْتَنا به أنك في جميع ما قلت من الصادقين، فيقول قوم نوح: وأنَّى علمت هذا يا أحمد أنتَ وأمتك، ونحنُ أول الأمم وأنتَ وأمتك آخرُ الأمم؟! فيقول رسول الله ﷺ: بسم الله الرحمن الرحيم: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرَ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [نوح:1] قرأ السورة حتى ختمها، فإذا ختمها قالت أمتُه: نشهدُ ﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [آل عمران: 62] ، فيقول الله ﷿ عند ذلك: امتازوا اليوم أيها المُجرمون، فهم أولُ مَن يَمتاز في النار" (1) . [ذكر إدريس النبي ﷺ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4012 - إسناده واه
وہب بن منبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اور حسن بن ابی الحسن نے غزوہ بدر میں شریک سات افراد سے ذکر کیا ہے، وہب کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی حدیث بیان کی ہے، یہ سب اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو بلائے گا، اور پوچھے گا: تم نے نوح کو کیا جواب دیا تھا؟ وہ کہیں گے: انہوں نے ہمیں نہ بلایا، نہ کوئی پیغام پہنچایا، نہ ہماری خیر خواہی کی، اور نہ ہمیں کسی بات کا حکم دیا یا روکا۔ تو نوح (علیہ السلام) عرض کریں گے: اے میرے رب! میں نے انہیں ایسی کھلی دعوت دی جو اگلوں اور پچھلوں، ایک امت کے بعد دوسری امت میں مشہور رہی، یہاں تک کہ یہ بات خاتم النبیین احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تک پہنچی، تو انہوں نے اسے لکھا، پڑھا، اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: احمد اور ان کی امت کو بلاؤ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت اس حال میں آئیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ نوح (علیہ السلام) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت سے کہیں گے: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم کو رسالت کا پیغام پہنچا دیا تھا، ان کی خیر خواہی میں پوری کوشش کی، اور انہیں خفیہ اور اعلانیہ طور پر آگ سے بچانے کی جدوجہد کی، لیکن میری دعوت نے ان کے فرار (اور دوری) میں ہی اضافہ کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت جواب دیں گے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں جس کا آپ نے ہم سے واسطہ دے کر پوچھا ہے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، آپ ان تمام باتوں میں سچے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم کہے گی: اے احمد! آپ اور آپ کی امت کو یہ کیسے معلوم ہو گیا، جبکہ ہم سب سے پہلی امت ہیں اور آپ اور آپ کی امت سب سے آخری امت ہیں؟! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ﷽ ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرَ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة نوح: 1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت پڑھی یہاں تک کہ اسے ختم کر دیا۔ جب آپ نے سورت ختم کی تو آپ کی امت نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں ﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ یقیناً یہی سچا بیان ہے، اور اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور بیشک اللہ ہی غالب، حکمت والا ہے۔ [سورة آل عمران: 62] اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ پس وہ (قوم نوح) سب سے پہلے لوگ ہوں گے جو جہنم میں الگ کیے جائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذلك من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك الحديث، بل صرّح الإمام أحمد بأنه كان يكذب على وهب بن منبه، وأنه لم يسمع من أبيه شيئًا، لأنَّ أباه مات وهو ابن خمس أو ست سنين.» [ترقيم الرساله 4056] [ترقيم الشركة 4034] [ترقيم العلميه 4012]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں