المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. ذِكْرُ وِلَادَةِ يَعْقُوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت یعقوب علیہ السلام کی ولادت کا ذکر
حدیث نمبر: 4125
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الغَسِيلي، حدثنا الحسين بن عمرو بن محمد العَنْقَزِي، حدثنا أبي، حدثنا أسباط، عن السُّدِّي قال: تزوج إسحاق بن إبراهيم الخليل امرأةً، فحملت بغلامين في بطن، فلما أرادت أن تَضَعَ اقتَتَل الغلامان في بطنها، فأراد يعقوب أن يَخرُج قبل عيصا، فقال عيصا: والله إن خرجت قبلي لأعترضَنَّ في بطن أمي فلأقتُلَنّها، فتأخر يعقوب وخرج عيصا قبله، وأخذ يعقوبُ بعَقِبِ عيصا فخرج، فسُمِّي عيصا لأنه عَصَى فخرج قبل يعقوب، وسُمّي يعقوبَ لأنه خرج آخِذًا بعقِبِ عيصا، وكان أكبرهما في البطن، ولكنه عصى وخرج قبله، وكَبِرَ الغلامان، وكان عيصا أحبّهما إلى أبيه، وكان يعقوب أحبَّهما إلى أُمِّه، وكان عيصا صاحبَ صَيدٍ، فلما كَبِرَ إسحاقُ عَمِي؛ وذكر حديثًا طويلًا (1) . [ذكر يوسف بن يعقوب صلوات الله عليهما]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4081 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4081 - سنده واه
سدی کہتے ہیں: سیدنا اسحاق بن ابراہیم الخلیل علیہم السلام نے ایک خاتون سے نکاح کیا تو وہ حاملہ ہوئی اور اس حمل میں دو بچے تھے۔ جب پیدائش کا وقت قریب ہوا تو دونوں بچے ماں کے پیٹ ہی میں ایک دوسرے سے جھگڑ پڑے۔ یعقوب علیہ السلام نے عیص سے پہلے نکلنا چاہا تو عیص نے کہا: خدا کی قسم! اگر تو مجھ سے پہلے نکلا تو میں ماں کے پیٹ میں سرکشی کروں گا اور اسے مار دوں گا۔ تو سیدنا یعقوب علیہ السلام ٹھہر گئے اور عیص آپ سے پہلے نکل آیا اور یعقوب علیہ السلام نے عیص کی ایڑھی پکڑ لی اور اس کے بعد باہر آئے۔ تو عیص کا نام اسی لئے عیص رکھا گیا کہ اس نے نافرمانی کی تھی اور یعقوب علیہ السلام کا نام یعقوب علیہ السلام اسی لئے رکھا گیا کہ یہ عیص کی ایڑھی (جس کو عربی میں عقب کہتے ہیں) پکڑے ہوئے باہر آئے تھے۔ یعقوب پیٹ میں عیص سے بڑے تھے جبکہ عیص نافرمانی کر کے ان سے پہلے نکل آیا اس طرح دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑے ہیں۔ عیص کے ساتھ ان کے والد بہت محبت کرتے تھے جبکہ یعقوب علیہ السلام اپنی ماں کا لاڈلا تھا اور عیص شکاری تھا جب سیدنا اسحاق علیہ السلام بوڑھے ہوئے تو ان کی بینائی زائل ہو گئی پھر اس کے بعد طویل حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4125]