المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. نَقْلُ عِظَامِ يُوسُفَ مِنْ مِصْرَ فِي عَهْدِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کو مصر سے منتقل کرنا
حدیث نمبر: 4132
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن عِمران الأخنسي، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أن رسول الله ﷺ نَزَل بأعرابيٍّ فأكرمَه، فقال له:"يا أعرابيُّ، سَلْ حاجتَك"، قال: يا رسول الله، ناقةٌ برَحْلِها، وأعنُزٌ يَحلُبها أهلي، قالها مرتين، فقال له رسول الله ﷺ:"أعجَزْتَ أن تكون مثلَ عجُوزِ بني إسرائيل؟"، فقال له أصحابه: يا رسول الله، وما عَجوزُ بني إسرائيل؟ قال:"إنَّ موسى أراد أن يَسيرَ ببني إسرائيل، فأضَلَّ عن الطريق، فقال له عُلماءُ بني إسرائيل: نحن نُحدِّثك: إنَّ يوسف أخذ علينا مَواثيقَ اللهِ أن لا نَخرُج من مصرَ حتى نَنقُلَ عِظامَه معنا، قال: وأيكم يدري أين قبرُ يوسف؟ قالوا: ما ندري أين قبرُ يوسفَ إلّا عجوزُ بني إسرائيل، فأرسل إليها، فقال لها: دُلِّيني على قبر يوسف، قالت: لا والله لا أفعَلُ حتى أكونَ معك في الجنة، قال: وكَرِه رسولُ الله ما قالت، فقيل له: أعطِها حُكمَها، فأعطاها حُكمَها، فأتت بُحَيرةً، فقالت: أَنضِبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوه، قالت: احفِرُوا هاهنا، فلما حَفَروا إذا عظامُ يُوسفَ، فلما أقلُّوها من الأرض فإذا الطريقُ مثلُ ضَوْء النهارِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ کی بہت عزت و تکریم کی۔ آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: اے اعرابی! تو مجھ سے اپنی حاجت کا سوال کر۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک اونٹنی کجاوہ سمیت اور کچھ بکریاں عطا فرما دیں، میرے گھر والے اس کا دودھ دوہیں گے۔ اس نے اپنا یہ سوال دو مرتبہ دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: کیا تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا ہونے سے بھی عاجز ہے۔ آپ کے صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے؟ آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے جانے کا ارادہ کیا تو راستہ گم کر بیٹھے۔ تو آپ سے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ جب مصر سے نکلیں گے تو میرا جسم بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تو تم میں سے یوسف علیہ السلام کی قبر انور کا کس کو پتہ ہے؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام کی قبر کا صرف بنی اسرائیل کی (فلاں) عورت کو پتہ ہے۔ آپ نے اس بڑھیا کی طرف پیغام بھیجا اور کہا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ مجھے اپنے ساتھ جنت میں رکھنے کا وعدہ نہیں کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات (اس طرح برملا کہنا) اچھی نہ لگی۔ آپ سے عرض کی گئی: یہ جو کچھ مانگ رہی ہے آپ عطا فرما دیجئے۔ تو آپ نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا۔ وہ ان کو ایک جھیل پر لے آئی اور بولی: یہ پانی خشک کرو۔ جب انہوں نے وہ پانی خشک کر لیا تو اس نے کہا: یہاں سے کھدائی کرو۔ جب انہوں نے وہاں سے کھدائی کی تو ان کو سیدنا یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا۔ جب انہوں نے آپ کا جسم اطہر زمین سے نکال لیا تو (وہ گمشدہ) راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4132]
حدیث نمبر: 4133
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني الحسين بن علي السُّلَمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في وَرَثة إبراهيم، فعند ذلك أتى اللهُ يوسفَ بنَ يعقوب مُلكَ الأرض المقدّسة، فمَلَكَ اثنتين وسبعين سنة، وذلك قوله فيما أنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ الآية [يوسف: 101] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
سیدنا جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت مسلسل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں رہی تو اللہ تعالیٰ نے یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی، چنانچہ آپ نے 72 سال حکومت کی۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: رَبِّ قَدْ ٰاتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ (یوسف: 101) ” اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا “ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4133]