🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر — حضرت خضر کے ساتھ والے موسیٰ کے بارے میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4137
حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّوَيهِ الرئيس بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد النَّيسابُوري، حدثنا علي بن مِهْران، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق، قال: وُلِد موسى بن مِيْشا بن يوسف بن يعقوب، فتنبّأ في بني إسرائيل قبل موسى بن عِمران فيما يَزعُمون، ويزعمُ أهل التيقُّن بها أنه هو الذي طلب العالِمَ ليتعلَّمَ منه حتى أدركَ العالِمَ الذي خَرَق السفينةَ، وقَتلَ الغُلامَ، وبنى الجِدار، وموسى بن مِيْشا معه، ثم انصرف عنه حتى بَلَغَ مَا بَلَغَ (2) . قال الحاكم: هكذا يَذكُر محمد بن إسحاق، ويُستَدَلُّ بالحديث الثابت الصحيح (1) عن عمرو بن دينار عن سعيد بن جُبَير، قال: قلت لابن عبّاس: إنَّ نَوفًا (2) البِكَاليّ يزعُم أنَّ موسى صاحِبَ الخَضِر ليس موسى بنَ عِمران صاحبَ بني إسرائيل، إنما هو موسى آخر، فقال ابن عبّاس: كَذَبَ عدوُّ الله، حدثنا أُبيُّ بن كعبٍ أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"قام موسى بنُ عِمران خَطيبًا في بني إسرائيل" الحديثَ بطولِه.
هذا حديث مُخرَّج في"الصحيحين"، وإنما حَمَلَني على ذِكْره (3) ، لأني تركتُ ذِكْرَه من الوَسَطِ. فأما موسى بن عِمران الكَلِيمُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب پیدا ہوئے، پس لوگوں کے گمان کے مطابق انہوں نے موسیٰ بن عمران سے پہلے بنی اسرائیل میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور اس بات پر یقین رکھنے والوں کا گمان ہے کہ یہی وہ (موسیٰ) ہیں جنہوں نے ایک عالم (خضر علیہ السلام) کو تلاش کیا تاکہ ان سے علم سیکھیں، یہاں تک کہ انہوں نے اس عالم کو پا لیا جس نے کشتی میں سوراخ کیا تھا، لڑکے کو قتل کیا تھا، اور دیوار تعمیر کی تھی، اور موسیٰ بن میشا ان کے ساتھ تھے۔ پھر وہ ان سے واپس لوٹ آئے یہاں تک کہ جو مقام پانا تھا پا لیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق اسی طرح ذکر کرتے ہیں، (حالانکہ اس کی تردید میں) اس ثابت اور صحیح حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے جو عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ گمان کرتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) کے ساتھی موسیٰ، بنی اسرائیل والے موسیٰ بن عمران نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن (نوف) نے جھوٹ بولا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: موسیٰ بن عمران بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے... (اس کے بعد) مکمل طویل حدیث بیان کی۔
یہ حدیث صحیحین (بخاری اور مسلم) میں مروی ہے۔ اور مجھے اسے (یہاں) ذکر کرنے پر اس بات نے آمادہ کیا کہ میں نے اسے درمیان سے چھوڑ دیا تھا۔ بہرحال، جہاں تک کلیم اللہ موسیٰ بن عمران کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4137]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4137] [ترقيم الشركة 4115] [ترقيم العلميه 4093]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4138
فحدَّثَنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بِهَمَذَان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا عبد الله بن داهِر بن يحيى الرازي، حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عَبَاية الأسدي، قال: سمعتُ عبد الله بن عبّاس يقول: إنَّ الله يقول في كتابه لموسى بن عِمران: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾، قال: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ [الأعراف: 144 - 145] ، فكان موسى يَرى أنَّ جميع الأشياء قد أُثبتت له، كما ترون أنتم أن علماءكم قد أثبتُوا لكم كلَّ شيءٍ، وكما يُثبِتُوه، فلما انتهى موسى إلى ساحِلِ البحر لقي العالِمَ فاستَنْطَقه فأقرَّ له بفَضْل علمه ولم يَحسُده، فقال له موسى ورَغِبَ إليه: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ فعَلِمَ العالِمُ أنَّ موسى لا يُطيق صحبتَه، ولا يصبر على عِلْمِه، فقال له العالِمُ: إنك لا تَستطيعُ معي صَبْرًا، ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ [الكهف: 68] ؟! فقال له موسى وهو يعتذر: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾، فعَلِم أنَّ موسى لا يَصبِرُ على عِلْمِه، فقال له: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ فرَكِبا في السفينة فخَرَقَها العالِمُ، وكان خَرْقُها لله رِضًا ولموسى سُخْطًا، ولَقِيَ الغلامَ فقتَلَه، وكان قتلُه لله رِضًا؛ ثم ذَكَر بعضَ القصةِ والكلام، ولم يُجاوِزِ ابنَ عبّاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
عبایہ اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے لیے فرمایا: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ (اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ!) بے شک میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ذریعے تمہیں لوگوں پر منتخب کر لیا ہے، پس جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اسے پکڑ لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔ اور فرمایا: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ اور ہم نے ان کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل لکھ دی۔ [سورة الأعراف: 144 - 145] پس موسیٰ علیہ السلام کا یہ خیال تھا کہ ان کے لیے تمام چیزیں ثابت (مقرر اور واضح) کر دی گئی ہیں، جیسا کہ تم لوگ سمجھتے ہو کہ تمہارے علماء نے تمہارے لیے ہر چیز واضح کر دی ہے، اور جس طرح وہ اسے ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے پہنچے تو اس عالم (حضرت خضر علیہ السلام) سے ملے اور ان سے بات چیت کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے علم کی فضیلت کا اقرار کیا اور ان سے حسد نہیں کیا، بلکہ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے رغبت ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ کیا میں آپ کی پیروی کر سکتا ہوں اس شرط پر کہ جو بھلائی (اور علم) آپ کو سکھایا گیا ہے، اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھا دیں؟ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کی صحبت کی طاقت نہیں رکھتے، اور ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو عالم نے ان سے کہا: بے شک آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ اور آپ اس بات پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کی حقیقت کا آپ کو علم ہی نہیں ہے؟ [سورة الكهف: 68] تو موسیٰ علیہ السلام نے عذر پیش کرتے ہوئے ان سے فرمایا: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾ ان شاء اللہ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو انہوں نے فرمایا: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ پس اگر آپ میری پیروی کریں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیجیے گا یہاں تک کہ میں خود اس کا ذکر آپ سے کروں۔ پھر وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو عالم نے اسے پھاڑ دیا، ان کا کشتی کو پھاڑنا اللہ کی رضا کے لیے تھا جبکہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ ناراضگی کا باعث تھا۔ پھر وہ ایک لڑکے سے ملے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، ان کا اسے قتل کرنا اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ پھر راوی نے کچھ قصہ اور کلام ذکر کیا، اور (یہ روایت) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے نہیں بڑھی (یعنی موقوف ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن داهر وأبيه فهما ليسا بشيء، ولهما ترجمة في "الميزان" و"اللسان"، وتَعقَّب الذهبيُّ في "تلخيصه" المصنف في تصحيحه هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 4138] [ترقيم الشركة 4116] [ترقيم العلميه 4095]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن داهر وأبيه فهما ليسا بشيء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4139
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا حمزة الزَّيَّات، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن أبيّ بن كَعْبٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"رحمةُ الله علينا وعلى موسى - فبدأ بنفسه - لو كان صَبَرَ لَقُصَّ علينا مِن خَبَرِه، ولكن قال: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4096 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور موسیٰ پر رحم فرمائے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ابتدا اپنی ذات سے کی) اگر وہ صبر کرتے تو ہمیں ان کی (مزید) خبریں (حالات) سنائی جاتیں، لیکن انہوں نے کہہ دیا تھا: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا، یقیناً آپ میری طرف سے (آخری) عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ [سورة الكهف: 76]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4139]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي، وحمزة الزيّات: هو ابن حبيب أحد القراء السبعة المشهورين.» [ترقيم الرساله 4139] [ترقيم الشركة 4117] [ترقيم العلميه 4096]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں