المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
84. ذِكْرُ مُدَّةِ الْفَاصِلَةِ فِيمَا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ -
انبیاء علیہم السلام کے درمیان وقفے کی مدت کا بیان
حدیث نمبر: 4217
فحدثنا أبو حفص محمد بن أحمد (1) الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن الحجّاج السامِيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهران، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ، قال:"كان عمرُ آدمَ ألفَ سنةٍ". قال ابن عبّاس: وبين آدم ونوح ألفُ سنة، وبين نوح وإبراهيم ألفُ سنة، وبين إبراهيم وموسى سبعُ مئة سنة، وبين موسى وعيسى خمسُ مئة سنة، وبين عيسى ومحمد ﷺ ست مئة سنة (2) . قال الحاكم: وقد قدّمتُ الروايةَ الصحيحةَ عن رسول الله ﷺ أنه ليس بينه وبين عيسى نبيٌّ، وقد رُويَت أخبارٌ في خالد بن سِنانٍ وابنته التي دخلتْ على رسول الله ﷺ وقوله:"ابنة أخي، نبيٌّ ضيَّعه قومُه":
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا زمانہ ہے (یونہی) سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان بھی ایک ہزار سال کا زمانہ ہے جبکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان سات سو سال کا زمانہ ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان پانچ سو سال کا وقفہ ہے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو سال کا دورانیہ ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صحیح روایات گزر چکی ہیں کہ آپ کے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں تھا اور سیدنا خالد بن سنان رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات، اس کی بیٹی کے متعلق روایت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تو میرے اس نبی بھائی کی بیٹی ہے جس کو اس کی قوم نے ضائع کر دیا۔“ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4217]