المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. كَلَامُ النَّاقَةِ بِبَرَاءَةِ صَاحِبِهَا
اونٹنی کا اپنے مالک کی براءت میں کلام کرنا
حدیث نمبر: 4282
حدثني أبو محمد الحسن بن إبراهيم الأسْلَمي الفارِسي من أصل كتابه، حدثنا جعفر بن دَرستَوَيهِ، حدثنا اليَمَان بن سعيد المِصِّيصي، حدثنا يحيى بن عبد الله المصري، حدثنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن عبد الله بن عمر قال: كنا جُلوسًا حول رسولِ الله ﷺ إذ دخَلَ أعرابيٌّ جَهْوَرِيٌّ بَدَوِيٌّ يَمَانِيٌّ، على ناقةٍ حمراءَ، فأناخَ ببابِ المسجدِ، فدخل فسلَّم على النبي ﷺ ثم قَعَدَ، فلما قضى نَحْبَه (1) ، قالوا: يا رسول الله، إنَّ الناقةَ التي تحت الأعرابيِّ سرقةٌ، قال:"أَتَمَّ بَيِّنَةٌ؟" قالوا: نعم يا رسول الله، قال:"يا علي، خُذْ حقَّ الله من الأعرابيِّ إن قامتْ عليه البيِّنةُ، وإن لم تَقُمْ فرُدَّه إليَّ" قال: فأطرقَ الأعرابيُّ ساعةً، فقال له النبيُّ ﷺ:"قُمْ يا أعرابيُّ لأمرِ الله، وإلّا فأَدْلِ بحُجَّتِكَ" فقالت الناقةُ من خلفِ الباب: والذي بعثَكَ بالكَرامة يا رسول الله، إنَّ هذا ما سَرَقَني ولا ملَكَني أحدٌ سواهُ، فقال له النبيُّ ﷺ:"يا أعرابيُّ، بالذي أنطقَها بعُذْرِك، ما الذي قلتَ؟" قال: قلتُ: اللهمَّ إنك لستَ برَبٍّ استَحْدثناكَ، ولا معكَ إِلهٌ أعانَكَ على خَلْقنا، ولا مَعَكَ ربٌّ فَنَشُكَّ في رُبُوبيَّتِك، أنت ربُّنا كما نقولُ وفوقَ ما يقولُ القائلونَ، أسألُك أن تُصلِّيَ على محمدٍ وأن تُبرِّئَني ببَراءتي، فقال له النبيُّ ﷺ:"والذي بَعَثَني بالكَرامةِ يا أعرابيُّ، لقد رأيتُ الملائكةَ يَبتَدِرُون أفواهَ الأَزِقَّة يَكتُبون مَقالتَك، فأكثِرِ الصلاةَ عليَّ" (1) . رواةُ هذا الحديث عن آخِرِهم ثقاتٌ، ويحيى بن عبد الله المِصري هذا لستُ أعرِفُه بعَدَالةٍ ولا جَرْحٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4236 - هو كذب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4236 - هو كذب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بلند بانگ یمنی دیہاتی اپنی سرخ اونٹنی پر آیا۔ اس نے مسجد کے دروازے پر اونٹنی کو بٹھایا اور اندر آ گیا۔ سلام کر کے بیٹھ گیا۔ جب اس نے کام پورا کر لیا تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دیہاتی کے پاس جو اونٹنی ہے یہ اس نے چوری کی ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: کوئی گواہ ہے؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اے علی اگر گواہوں سے ثابت ہو جائے تو اس دیہاتی سے اللہ کا حق لے لو، اور اگر گواہوں سے ثابت نہ ہو تو اس کو واپس کر دو۔ وہ دیہاتی کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھا رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے دیہاتی! اللہ تعالیٰ کے حکم کے لئے اٹھو۔ نہیں تو اپنی دلیل پیش کرو۔ تو دروازے کے باہر سے اونٹنی بولی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو عزت و کرامت کے ساتھ بھیجا ہے، اس نے مجھے چرایا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی دوسرا میرا مالک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے دیہاتی! تجھے اس ذات کی قسم! جس نے اس کو تیرے حق میں قوت گویائی بخشی ہے، تو نے کیا دعا مانگی تھی؟ اس نے کہا: میں نے یہ دعا مانگی تھی: اے اللہ! تو ایسا رب نہیں ہے کہ میں نے تجھے نیا بنایا ہے اور نہ ہی تیرے ساتھ کوئی دوسرا الہ ہے جس نے ہماری تخلیق میں تیری مدد کی ہو اور نہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا رب ہے کہ ہم تیری ربوبیت میں شک کریں، تو ہی ہمارا رب ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور تو اس سے بھی بلند و برتر ہے جو کہنے والے کہتے ہیں۔ میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے بری فرما۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: اس ذات کی قسم! جس نے مجھے عزت کے ساتھ بھیجا ہے، اے اعرابی: میں نے گلیوں کے کونوں پر فرشتوں کو تیری طرف جلدی جلدی آتے دیکھا، وہ تیری اس دعا کو لکھ رہے تھے۔ لہٰذا مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھا کر۔ ٭٭ اس حدیث کے از اول تا آخر تمام راوی ثقہ ہیں اور اس یحیی بن عبداللہ المصری کے بارے میں جرح و عدالت کے حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4282]