🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. مُؤَاخَاةُ رَسُولِ اللَّهِ بَيْنَ أَصْحَابِهِ
رسول اللہ ﷺ کا اپنے صحابہؓ کے درمیان مؤاخات قائم کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4334
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العدل ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا علي بن قادِم، حدثنا علي بن صالح بن حَيّ، عن حكيم بن جُبَير، عن جميع بن عُمير، عن ابن عمر، قال: لما وَرَدَ رسول الله ﷺ المدينة آخى بين أصحابه، فجاء عليّ تَدمَعُ عَيْناهُ، فقال: يا رسول الله، آخيت بين أصحابك، ولم تُؤاخِ بيني وبين أحدٍ، فقال رسول الله ﷺ:"يا عليُّ، أنت أخي في الدنيا والآخرة" (2) . تابعه سالم بن أبي حفصة عن جميع بزيادة في السياقة:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے حاضر بارگاہ مصطفی ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تمام صحابہ کے درمیان مواخاۃ قائم فرما دی ہے، لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ! تو دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث جمیع بن عمیر سے روایت کرنے میں سالم بن ابوحفصہ نے حکیم بن جبیر کی متابعت کی ہے اور سند میں کچھ اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4335
حدَّثَناهُ أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النحوي ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا إسحاق بن بشر الكاهلي، حدثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حفصة، عن جُميع بن عُمير التّيمي، عن ابن عمر، قال: إنَّ رسول الله ﷺ آخى بين أصحابه، فآخى بين أبي بكر وعمر، وبين طلحة والزبير، وبين عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف، فقال عليّ: يا رسول الله، إنك قد آخيت بين أصحابك، فمن أخي؟ قال رسول الله ﷺ:"أما ترضى يا عليُّ، أن أكون أخاك؟"، قال ابن عمر: وكان عليّ جَلْدًا شُجاعًا، فقال عليّ: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"أنتَ أخي في الدُّنيا والآخرة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4289 - جميع بن عمير أتهم وإسحاق بن بشر الكاهلي هالك
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تمام صحابہ کو بھائی بھائی بنا دیا، میرا بھائی کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا بھائی میں ہوں؟ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ بہت طاقتور اور دلیر آدمی تھے۔) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں