المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. ذِكْرُ الْأَنْفَالِ وَالْغَنَائِمِ
مالِ غنیمت اور انفال کا ذکر
حدیث نمبر: 4418
حدَّثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي، حدَّثنا عبد العزيز بن معاوية، حدَّثنا محمد بن جَهْضَم، حدَّثنا إسماعيل بن جعفر، حدّثني عبد الرحمن بن الحارث، عن سُليمان بن موسى الأشْدَق، عن مكحُول، عن أبي سَلّام، عن أبي أمامة الباهلي صاحبِ رسول الله ﷺ، عن عُبادة بن الصامِت قال: أخذَ رسولُ الله ﷺ يومَ حُنين وَبَرَة من جَنْبِ بَعير، ثم قال:"يا أيُّها الناسُ، إنه لا يَحِلُّ لي مما أفاءَ اللهُ عليكم قَدرُ هذه إِلَّا الخُمسَ، والخُمْسُ مَردُودٌ عليكم، فأدُّوا الخَيطُ والمِخْيَطَ، وإياكُم والغُلولَ، فإنه عارٌ على أهلِه يومَ القيامة، وعليكُم بالجهاد في سبيل الله فإنه بابٌ من أبواب الجنة، يُذهِبُ اللهُ به الهَمَّ والغَمَّ". قال: وكان رسولُ الله ﷺ يكرهُ الأنفالَ، ويقول:"لِيرُدَّ قويُّ المؤمنين على ضَعِيفهم" (1)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن اونٹ کے پہلو میں سے کچھ بال پکڑے پھر ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں مال غنیمت دیا ہے، اس میں سے میرے لئے اتنی مقدار میں بھی حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اورخمس تم پر رد کیا گیا ہے اور سوئی اور دھاگہ تک بھی ادا کرو، اور دھوکہ دہی سے بچو کیونکہ ملاوٹ قیامت کے دن ملاوٹ کرنے والوں کے لئے باعث عار ہو گی اور تم پر جہاد فی سبیل اللہ لازم ہے کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کی بدولت پریشانیوں اور دکھوں کو ختم فرما دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کو (خود اپنے لئے) نہ پسند کرتے تھے اور فرمایا: مالدار مومن کو چاہئے کہ وہ کمزوروں اور ناداروں کو دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4418]