🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَفْنُهُ بِأَيْدِي رَهْطٍ مِنَ الْكُوفَةِ
حضرت ابو ذرؓ کی وفات اور کوفہ کے چند افراد کے ہاتھوں ان کی تدفین
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4421
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني بريدة (1) بن سُفيان، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن عبد الله بن مسعود قال: لما سارَ رسولُ الله ﷺ إلى تبوكَ جعلَ لا يزالُ يَتخلّف الرجلُ، فيقولون: يا رسول الله، تَخلَّف فلانٌ، فيقول:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه" حتى قيل: يا رسول الله، تَخلّف أبو ذَرّ، وأبطأ به بَعيرُه، فقال رسولُ الله ﷺ:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه"، فتَلَوَّم أبو ذرٍّ على بَعِيره فأبطأَ عليه، فلما أبطأ عليه أخذَ مَتاعَه فجعلَه على ظهرِه، فخرج يتبعُ رسولَ الله ﷺ ماشِيًا، ونزلَ رسول الله ﷺ في بعض مَنازِله، ونظر ناظِرٌ من المسلمين فقال: يا رسول الله، إنَّ هذا الرجلَ يمشي على الطريق، فقال رسولُ الله ﷺ:"كُن أبا ذَرٍّ، فلما تأمّلَه القومُ قالوا: يا رسول الله، هو واللهِ أبو ذَرٍّ! فقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ الله أبا ذَرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فضرب الدهرُ من ضَرْبتِه، وسُيِّر أبو ذرٍّ إلى الرَّبَذة، فلما حضرَه الموتُ أوصى امرأتَه وغُلامَه: إذا مِتُّ اعْسِلاني وكَفِّناني، ثم احمِلاني فضَعَاني على قارِعةِ الطريق، فأولُ: رَكْبٍ يَمُرُّون بكم فقولوا: هذا أبو ذرٍّ، فلما ماتَ فعلوا به كذلك، فاطَّلع ركبٌ فما عَلِمُوا حتى كادت ركائبهم تَوَطَّأُ سَريرَه، فإذا ابن مسعودٍ في رهْطٍ من أهل الكُوفة، فقالوا: ما هذا؟ فقيل: جنازة أبي ذرٍّ، فاستهلَّ ابن مسعودٍ يبكي، فقال: صدقَ رسولُ الله ﷺ:"يَرحَمُ اللهُ أبا ذرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فنزل فوَلِيَه بنفسِه حتى أَجَنَّه، فلما قَدِمُوا المدينةَ ذُكِر لعثمانَ قولُ عبدِ الله وما وَلِيَ منه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4373 - فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کی جانب پیش قدمی فرمائی تو کوئی نہ کوئی پیچھے رہ جاتا، تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں شخص پیچھے رہ گیا ہے، آپ علیہ السلام فرماتے: اس کو چھوڑو، اگر اس (کے نصیب) میں بھلائی ہو گی تو وہ آ کر تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ اور اگر اس (کے تمہارے ساتھ چلنے) میں بہتری نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ حتی کہ کسی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوزر پیچھے رہ گئے ہیں، ان کا اونٹ ان کو دیر کروا رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑو، اگر اس (کے تمہارے ساتھ چلنے) میں بہتری ہو گی تو وہ عنقریب تمہارے ساتھ آ ملے گا اور اگر اس میں بہتری نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے تمہیں بچا لیا، سیدنا ابوذر نے کچھ دیر تو انتظار کیا لیکن اونٹ نہ اٹھا۔ جب آپ اس سے مایوس ہو گئے تو آپ نے اپنا سامان اتار کر اپنی پیٹھ پر لادا اور پیدل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (قافلے کے) پیچھے پیچھے چل دئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی نظر پڑی، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کوئی آدمی راستے پر چلا آ رہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ابوذر ہو جا۔ جب لوگوں نے اس کو غور سے دیکھا تو بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کی قسم! وہ تو واقعی ابوذر رضی اللہ عنہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوذر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، یہ اکیلا ہی سفر کرتا ہے اور اکیلا ہی فوت ہو گا اور اکیلا ہی قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ پھر ایک زمانہ گزر گیا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ربذہ کی جانب سفر کیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو نصیحت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے غسل دے کر، کفن پہنا کر گزرگاہ میں رکھ دینا۔ جو قافلہ تمہارے پاس سے سب سے پہلے گزرے اس کو بتانا کہ یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہے۔ جب آپ فوت ہو گئے تو انہوں نے ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔ ایک قافلہ نمودار ہوا، لیکن ان کو پتہ نہ چلا حتی کہ وہ اتنا قریب آ گئے کہ قریب تھا کہ ان کی سواریاں ان کی چارپائی کو روند ڈالتیں تو اچانک اس قافلے میں اہل کوفہ میں سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ یہ ابوذر کا جنازہ ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی چیخ نکل گئی اور وہ رو پڑے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ابوذر پر رحم کرے، یہ تنہا سفر کرتا ہے اور اکیلا ہی فوت ہو گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا۔ پھر آپ سواری سے اترے اور بذات خود ان کی تدفین کی۔ جب وہ لوگ مدینہ میں آئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو عبداللہ کی گفتگو اور ان کا وہ عمل بتایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4421]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں