🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّامِ .
نبوی خلافت تیس سال رہے گی پھر بادشاہت ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4487
حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا حُمَيد بن عيّاش الرَّمْلي، حدثنا المؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينة مولى أم سلمة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا صلَّى الصُّبحَ قال:"أيُّكم رأى الليلةَ رُؤيا؟" قال: فصلَّى ذاتَ يوم الصُّبحَ، ثم أقبل على أصحابه فقال:"أيُّكم رأى رُؤيا؟"، فقال رجلٌ: أنا رأيتُ يا رسولَ الله كأنَّ ميزانًا دُلِّي من السماء، فوُضِعْتَ في كِفّةٍ، ووُضِعَ أبو بكر في كِفّةٍ أُخرى، فرجَحْتَ بأبي بكرٍ، فرُفعْتَ وتُرك أبو بكر مكانَه، فجيءَ بعمرَ بن الخطاب فوُضِعَ في الكِفّة الأخرى، فرجَح أبو بكر بعُمر، فرُفع أبو بكْرٍ وتُرك عمرُ مكانه، وجيء بعثمان بن عفّان، فوُضِعَ في الكفّة الأخرى، فرجَح عمرُ بعُثمان، ثم رُفِعا ورُفع الميزان، قال: فتغيَّر وجهُ رسولِ الله ﷺ، ثم قال:"خِلافةُ النُّبوةِ ثلاثون عامًا، ثم يكون مُلكٌ". قال سعيد بن جُمْهان: فقال لي سَفينة: أمسِكُ: سَنَتَي أبي بكر، وعشرًا عمر، وثِنَتي عشرةَ عثمانُ، وسِتًّا عليٌّ، ﵃ أجمعين (1) . وقد أسندت هذه الرؤيا بإسناد صحيح مرفوعًا إلى النبي ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4438 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعید بن جمہان روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت کریمہ تھی کہ آپ) جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب رخ کر کے بیٹھ جاتے اور فرماتے: تم میں سے کسی نے آج رات خواب دیکھا ہے؟ اسی طرح ایک دن نماز کے بعد آپ نے فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے دیکھا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یوں دیکھا گویا کہ ایک ترازو آسمان سے لگایا گیا ہے، اس کے ایک پلڑے میں آپ کو اور دوسرے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رکھا گیا، تو آپ کا پلڑا بھاری رہا۔ پھر آپ کو اتار دیا گیا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسی پلڑے میں بیٹھے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کو دوسرے پلڑے میں بٹھایا گیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اتار دیا گیا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لا کر اس پلڑے میں بٹھایا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہوا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دونوں کو اتار دیا گیا اور وہ ترازو اٹھا لیا گیا۔ (راوی) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیس سال تک ہو گی پھر اس کے بعد بادشاہی شروع ہو جائے گی۔ سعید بن جمہان کہتے ہیں: مجھے سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 2 سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے، 8 سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے، 12 سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے، 6 سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے۔ ٭٭ یہ روایات اسناد صحیحہ کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مرفوعاً بھی مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4487]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4488
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهديّ بن رُستُم، حدثنا موسى بن هارون البُرْدِي، حدثنا محمد بن حَرْب، حدثني الزُّبَيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان بن عفّان، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أُريَ الليلة رجلٌ صالح أنَّ أبا بكر نِيطَ برسولِ الله، ونِيطَ عمرُ بأبي بكرٍ، ونِيطَ عثمانُ بعمرَ". قال جابر: فلما قُمنا من عند النبي ﷺ قلنا: الرجلُ الصالحُ النبيُّ ﷺ، وأما ما ذَكَرَ من نَوْطِ بعضِهم بعضًا، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بَعَثَ الله به نبيِّه ﷺ (1) . ولِعاقبة هذا الحديث إسنادٌ صحيحٌ عن أبي هريرة، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4439 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس رات ایک مرد صالح نے خواب دیکھا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دیا گیا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا دیا گیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ سے ملا دیا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اٹھے تو ہم نے سوچا کہ مرد صالح (سے مراد تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان میں بعض کو بعض کے ساتھ ملانے کو جو ذکر ہے اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء ہیں۔ ٭٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کی سند صحیح موجود ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4488]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4489
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هُشيم، عن العوّام بن حَوشَب، عن سليمان بن أبي سليمان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"الخِلافةُ بالمدينةِ، والمُلكُ بالشامِ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4440 - سليمان بن أبي سليمان وأبوه مجهولان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلافت مدینے میں ہو گی اور ملوکیت شام میں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4489]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4490
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا أبو عَتّاب سهل بن حمّاد، حدثنا المُختار بن نافع، حدثنا أبو حَيّان التَّيمي، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ أبا بكر، زوَّجني ابنتَه، وحَمَلني إلى دار الهِجْرة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4441 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، اس نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اور مجھے دارالہجرت جانے کے لیے سواری فراہم کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4491
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الصَّقْر، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا عَبد الله بن عمر بن حفص، عن نافع، عن ابن عمر قال: لما دخَل رسولُ الله ﷺ عامَ الفتحِ رأى النساءَ يَلْطُمْن وجوهَ الخِيلِ بالخُمُر، فتبسّم إلى أبي بكر وقال:"يا أبا بكر"، كيف قال حسانُ بن ثابتٍ؟"، فأنشده أبو بكر: عَدِمتُ بُنَيَّتي إن لم تَرَوها … تُثيرُ النَّقعَ مِن كَنَفَي كَدَاءِ (1) يُنازِعنَ الأسِنَّةَ مُسرِعاتٍ … يُلطّمُهنَّ بالخُمُرِ النساءُ فقال رسول الله ﷺ: ادخُلُوا من حيثُ قال حسّانُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4442 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: فتح مکہ کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ عورتیں اپنے دوپٹوں کے ساتھ گھوڑوں کے چہروں سے غبار صاف کر رہی ہیں۔ تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب مسکرا کر دیکھا اور فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ میں نے پیاری بیٹی کو کھو دیا ہے اگر تم اس کو نہ دیکھو، (ہمارا لشکر) مکہ کے بالائی علاقے کداء سے غبار اڑا رہا ہے۔ لگاموں کی رسیاں ایک دوسری سے الجھ رہی تھیں اور عورتیں اپنے دوپٹوں کے ساتھ گھوڑوں کے چہروں سے غبار صاف کر رہی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: داخل ہو جاؤ جس طرح حسان نے کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4491]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4492
حدثنا أبو محمد المُزَني، وأبو سعيد الثقفي، قالا: حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا ضِرار بن صُرَدٍ، حدثنا شَريك (1) ، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الله بن سَلِمة، عن عَبِيدة السَّلْماني، عن عبد الله بن مسعود، قال: كنا عند النبيّ ﷺ فقال:"يَطَّلع عليكم رجلٌ مِن أهل الجنّة"، فاطّلَع أبو بكرٍ فسَلَّم، ثم جَلَس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4443 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی شخص آنے والا ہے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور سلام عرض کر کے بیٹھ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4492]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں