المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. كَانَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي سَعِيدًا، وَأَمِتْنِي شَهِيدًا .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگوٹھی کے نقش پر یہ لکھا تھا: اے اللہ! مجھے سعادت مند زندگی دے اور شہادت کی موت عطا فرما
حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ الأصبهاني، حَدَّثَنَا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنه سُئل عن عثمانَ: ما كان على فَصِّ خاتِمِه؟ قال: كان على فَصِّ خاتِمِه من صِدق نِيَّته: اللهم أحْيِني سعيدًا، وأمِتْني شهيدًا، فوالله لقد عاشَ سعيدًا، ومات شهيدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کے نگینے پر کیا تحریر تھا؟ آپ نے فرمایا: ان کی انگوٹھی کے نگینے پر ان کی نیت کی سچائی تھی، وہ یہ تھی ” اے اللہ! مجھے سعادت مند زندہ رکھ اور مجھے شہادت کی موت عطا فرما “ خدا کی قسم! انہوں نے سعادت مندی کی زندگی گزاری اور شہادت کی موت پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4615]
حدیث نمبر: 4616
حدثني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حَدَّثَنَا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حَدَّثَنَا عَبْدة بن سليمان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حُصَين الحارثي، قال: جاء عليُّ بن أبي طالب إلى زيد بن أرقَمَ يعودُه وعندَه قومٌ، فقال عليٌّ: اسكُنوا واسكُتُوا فوالله لا تسألوني عن شيء إلَّا أخبرتُكم، فقال زيدٌ: أنشُدُكَ الله، أنت قتلتَ عثمانَ؟ فأطرَقَ عليٌّ ساعةً، ثم قال: والذي فَلَقَ الحبّةَ وبَرَأ النَّسمة، ما قَتلْتُه، ولا أمرتُ بقتلِه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حصین حارثی فرماتے ہیں: سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے ان کے پاس آئے، اس وقت ان کے پاس اور لوگ بھی موجود تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ، خدا کی قسم! تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے، میں تمہیں اس کے جواب دوں گا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کے لئے سر جھکایا پھر بولے: اس ذات کی قسم! جس نے دانہ پھاڑا اور روح کو پیدا کیا، میں نے ان کو شہید نہیں کیا اور نہ ہی ان کے شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4616]
حدیث نمبر: 4616M
قال هارون: وحدثنا أبو أسامة، عن زهير، عن كِنانة (1) ، قال: رأيت الحسنَ بن علي أُخرج من دار عثمان جَرِيحًا (2) .
سیدنا قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4616M]