🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. ذِكْرُ بَعْضِ فَضَائِلِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4626
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزّاز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي. وأخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبو بكر الحَنَفي، حَدَّثَنَا بُكير بن مِسمار قال: سمعت عامر بن سعد يقول: قال معاوية لسعد بن أبي وقّاص: ما يَمنعُك أن تَسُبَّ ابن أبي طالب؟ قال: فقال: لا أسبُّه ما ذكرتُ ثلاثًا قالهن له رسولُ الله ﷺ، لأن تكونَ لى واحدةٌ منهن أحبُّ إليَّ من حُمْر النَّعَم، قال له معاوية: ما هُنّ يا أبا إسحاق، قال: لا أسبُّه ما ذكرتُ حين نزل عليه الوحيُ فأخذ عليًّا وابنَيه وفاطمةَ فأدخلَهم تحت ثوبِه، ثم قال:"ربِّ إِنَّ هؤلاء أهلُ بيتي"، ولا أسبُّه حين خَلَّفه في غزوة تَبوك، غزاها رسولُ الله ﷺ، فقال له عليٌّ: خَلَّفْتَني مع الصبيان والنساء، قال:"ألا تَرضَى أن تكون مني بمَنزلةِ هارونَ من موسى، إلَّا أنه لا نُبوّةَ بعدي"، ولا أسبُّه ما ذكرتُ يومَ خيبر، قال رسول الله ﷺ:"لأُعطِيَنَّ هذه الرايةَ رجلًا يحبُّ الله ورسولَه، ويفتحُ الله على يديه"، فتطاوَلْنا لرسولِ الله ﷺ، فقال:"أين عليٌّ؟" فقالوا: هو أرمَدُ، فقال:"ادعُوه" فدعَوه، فَبَصَقَ في عَينيه (1) ، ثم أعطاه الرايةَ، ففتحَ الله عليه. قال: فلا واللهِ ما ذَكَره معاويةُ بحرفٍ حتَّى خرجَ من المدينة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديثِ المؤاخاة (1) ، وحديث الراية (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4575 - على شرط مسلم فقط
سیدنا عامر بن سعد فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: تم علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں ان کو سوچ کر میں آپ کی سب و شتم سے رکا رہتا ہوں۔ اور ان باتوں میں سے کوئی ایک ہی مجھے مل جائے تو میرے نزدیک یہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابواسحاق! وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ ابواسحاق نے کہا: میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ (ایک مرتبہ) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے سیدنا علی، ان کے دونوں صاحبزادوں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑ کر اپنی چادر میں داخل فرمایا اور کہا: اے میرے رب! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے منع فرما دیا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جیسی نسبت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اور میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن فرمایا تھا: میں یہ جھنڈا کل اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ تو ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھ لمبے کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی کہاں ہے؟لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بلاؤ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو بلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر اپنا لعاب دہن لگایا پھر ان کو جھنڈا عطا فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی (سیدنا عامر بن سعد) فرماتے ہیں: خدا کی قسم! اس کے بعد مدینہ سے نکل جانے تک سیدنا معاویہ نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے مؤاخاۃ والی حدیث اور جھنڈے والی حدیث نقل فرمائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4626]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں