🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

113. قَتْلُ عَلِيٍّ لَيْلَةَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس رات شہید کیے گئے جس رات قرآن نازل ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4738
حدثني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا شَريك، عن عثمان بن أبي زُرْعة، عن زيد بن وهب، قال: قَدِمَ على عليٍّ وفدٌ من أهل البصرة، وفيهم رجلٌ من الخوارج يقال له: الجَعْد بن بَعْجة، فحَمِدَ الله وأَثنَى عليه، وصلّى على النبيّ ﷺ، ثم قال: اتّقِ الله يا عليُّ، فإنك ميّتٌ، فقال له عليٌّ: لا، ولكن مقتولُ ضربةٍ على هذا تَحْضِبُ هذه - قال: وأشار عليٌّ إلى رأسِه ولحيتِه بيده - قضاءٌ مَقضيٌّ، وعهدٌ معهودٌ، وقد خابَ من افتَرى. ثم عابَ عليًّا في لِباسِه، فقال: لو لبستَ لباسًا خيرًا من هذا! فقال: إنَّ لباسي هذا أبعَدَ لي من الكِبْر، وأجدَرُ أن يَقتديَ بيَ المسلمون (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4687 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن وھب فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل بصرہ کا ایک وفد آیا۔ ان میں ایک خارجی آدمی بھی تھا جس کا نام جعد بن نعجہ تھا، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا پھر کہنے لگا: اے علی! خدا کا خوف کرو، کیونکہ تم نے بھی آخر مرنا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ (میں طبعی موت نہیں مروں گا بلکہ) مجھے شہید کیا جائے گا اور (اپنے سر مبارک اور داڑھی شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) ایک حملے میں میری یہ داڑھی رنگین ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ ہو چکا ہے، وعدہ لیا جا چکا ہے، اور بے شک نامراد رہا جس نے جھوٹ بولا، پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس کے متعلق اعتراض کیا، کہنے لگا: آپ کو اس سے اچھا لباس پہننا چاہئے تھا، آپ نے فرمایا: میرا یہ لباس مجھے تکبر سے دور رکھتا ہے اور مسلمانوں کو میرے اس عمل کی پیروی کرنی چاہئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4738]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4739
حدثنا الأستاذ أبو الوليد، حدثنا (2) الهيثم بن خَلَف الدُّوري، حدثنا سَوَّار بن عبد الله العَنْبري، حدثنا المعتمِر، قال: قال أَبي: حدثنا الحُرَيث بن مُخَشِّي: أنَّ عليًّا قُتل صبيحةَ إحدى وعشرين من رمضان، قال: فسمعتُ الحسنَ بن عليٍّ يقول وهو يَخطُب، وذكرَ مناقبَ عليّ، فقال: قُتل ليلةَ أُنزل القرآنُ، وليلةَ أُسريَ بعيسى، وليلةَ قُبض موسى، قال: وصلّى عليه الحسنُ بن عليّ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4688 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حریث بن مخشی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو 21 رمضان المبارک کی نماز فجر میں شہید کیا گیا، آپ فرماتے ہیں میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ایک خطبہ سنا ہے اس میں انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کافی فضائل بیان کئے اور فرمایا: ان کو جس رات شہید کیا گیا یہ وہی رات تھی جس میں قرآن نازل ہوا، اسی رات میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی بارگاہ میں اٹھایا گیا، اسی رات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوا، (حریث بن مخشی) کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4739]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں