المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
162. ذِكْرُ مُصَالَحَةِ الْحَسَنِ وَمُعَاوِيَةَ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کا بیان
حدیث نمبر: 4866
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البجلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرّة، سمعت عبد الله بن الحارث يُحدِّث عن زهير بن الأَقْمَر، رجل من بني بكر بن وائل، قال: لما قتل عليٌّ قامَ الحسنُ يَخطب الناسَ، فقام رجلٌ من أَزْدِ شَنُوءةً فقال: أشهَدُ لقد رأيتُ رسول الله ﷺ واضعه في جبوته وهو يقول:"من أحبني فليُحِبَّه"، وليبلِّغ الشاهد الغائب، ولولا كرامة سول الله ﷺ ما حدثت به أبدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4806 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4806 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زہیر بن اقمر جو کہ بنی بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو ” ازدشنوءۃ “ (علاقے) کا ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی گود میں بٹھائے ہوئے یہ فرما رہے تھے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے محبت کرے، اور جو لوگ یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ (پھر اس نے کہا) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرم نوازی نہ ہوتی تو میں یہ بات کبھی بیان نہ کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4866]