🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

276. قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِي الْعَاصِ وَرَدِّ زَيْنَبَ إِلَيْهِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ
سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح پر ان کی طرف لوٹایا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5108
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حدثنا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حدثني محمد بن عمر قال: وأبو العاص بن الرَّبيع بن عبد العُزّى بن عبد شمس بن عبد مَناف بن قُصيّ، واسم أبي العاص مِقسَم، وأمُّه هالةُ بنت خُويلد بن أسد بن عبد العُزّى بن قُصيّ، وخالتُه خديجةُ بنت خُويلد زوجُ النبي ﷺ، وكان رسول الله ﷺ زَوَّجه ابنتَه زينبَ قبلَ الإسلام، فولَدَت له عليًا وأُمامة، فتُوفّي عليٌّ وهو صغير، وبقيت أُمامةُ إلى أن تزوّجها عليُّ بن أبي طالب بعد وفاةِ فاطمةَ ﵂. وكان أبو العاص فيمن شهد بدرًا مع المشركين، فأسرَه عبدُ الله بن جُبير بن النعمان الأنصاري ﵄، فلما بعث أهلُ مكة في فِداء أُساراهم قَدِم في فِداء أبي العاص أخوه عَمرو بن الرَّبيع (2) . قد ذكرتُ فيما تقدَّم ما وقع بينه وبين زينب بنت رسول الله ﷺ إلى أن استُشهدت زينبُ، فاسمعِ الآن حُسنَ عاقبةِ أبي العاص، وحسنَ إسلامه، وانتقالَه إلى المدينة حتى تُوفّي بحَضْرة رسولِ الله ﷺ:
محمد بن عمر نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا نسب یوں بیان کیا ہے ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدشمس بن عبد مناف بن قصی ابوالعاص کا نام مقسم ہے، اور ان کی والدہ ہالہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں، ان کی خالہ ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام آنے سے پہلے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے ساتھ کیا تھا، ان کے ہاں علی اور امامہ پیدا ہوئے، ان میں سے علی بچپن ہی میں فوت ہو گئے اور سیدنا امامہ زندہ رہیں اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ نکاح کیا تھا، ابوالعاص رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں مشرکین کی جانب سے شریک ہوئے تھے، سیدنا عبداللہ بن جبیر بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ نے ان کو گرفتار کر لیا تھا، پھر جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے بھائی عمرو بن الربیع کے ہاتھوں ابوالعاص رضی اللہ عنہ فدیہ بھیجا۔ سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ اور زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شہادت تک کے تمام معاملات کا ذکر کر دیا گیا ہے، اب سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے حسن خاتمہ، قبول اسلام اور مدینہ منورہ میں منتقل ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفات پانے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5108]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں