المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
317. لَا يَتَرَحَّمُ اللَّهُ عَلَى أُمَّةٍ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ مِنْهُمْ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ
اللہ تعالیٰ اس امت پر رحم نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق طاقتور سے نہ دلوا سکے
حدیث نمبر: 5193
حدثنا أبو زكريا العَنْبري وأبو الحسن بن موسى الفقيه، قالا: حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المُثنَّى ومحمد بن بشار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، عن أبيه، قال: كان لرجل على النبي ﷺ تمرٌ، فأتاه يَتقاضاهُ، فاستَقرَضَ النبيُّ ﷺ من خولةَ بنت حَكِيم تمرًا فأعطاه إياه، وقال:"أمَا إنّه كان عندي تمرٌ، ولكنه كان عَثَريًّا". ثم قال:"كذلك يَفعلُ عِبادُ الله المؤمنون (4) ، وإِنَّ الله لا يَترحَّمُ على أُمَّةٍ لا يأخذُ الضعيفُ منكم حَقَّه من القَويّ غيرَ مُتَعْتَعٍ" (1) . لم يُسنِدْ أبو سفيان عن النبي ﷺ غيرَ هذا الحديثِ الواحدِ، ولم يُقِمْ إسنادَه عن شعبةَ غيرُ عُندَر (1) .
سیدنا ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجوروں کا تقاضا کیا جو اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کچھ کھجوریں بطور قرض لے کر اسے ادا فرمائیں اور ارشاد فرمایا: ”میرے پاس کھجوریں موجود تھیں لیکن وہ بارش کے پانی پر پلنے والی (خود رو) تھیں“، پھر فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اسی طرح کرتے ہیں، اور بیشک اللہ اس قوم پر رحم نہیں فرماتا جس میں کمزور شخص کسی لکنت (خوف و جھجھک) کے بغیر طاقتور سے اپنا حق نہ لے سکے۔“ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف یہی ایک حدیث روایت کی ہے، اور شعبہ سے اس کی سند کو غندر کے علاوہ کسی نے (اس طرح مکمل طور پر) محفوظ نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5193]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5193] [ترقيم الشركة 5148]
حدیث نمبر: 5194
فقد أخبرَناه أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني أبي، عن شُعْبة، عن سِماك، قال: كنا مع مُدرِك بن المُهلَّب بسِجِستانَ، فسمعتُ شيخًا يُحدِّث عن أبي سفيان بن الحارث، عن النبي ﷺ، فذكره (1) ، ولم يُسَمِّ (2) عبدَ الله بن أبي سفيان.
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ ہم سجستان میں مدرک بن مہلب کے ساتھ تھے، وہاں میں نے ایک بزرگ کو سنا جو سیدنا ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کر رہے تھے (جیسا کہ اوپر مذکور ہوا)، لیکن ان راوی نے اس سند میں عبداللہ بن ابوسفیان کا نام ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5194]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن المحفوظ فيه أنه عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث مرسلًا، ليس فيه ذكر أبي سفيان كما سيُخرّجه المصنف نفسه برقم (5198) عن محمد بن صالح بن هانئ عن إبراهيم بن أبي طالب، بمثل إسناده هذا الذي هنا، بإسقاط أبي ...» [ترقيم الرساله 5194] [ترقيم الشركة 5149]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5195
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله بن الزُّبَير، قال: وممَّن صَحِبَ رسولَ الله ﷺ من ولد الحارث بن عبد المُطّلب أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وقال له رسول الله ﷺ:"مِن خَيرِ أهلي" أو"إنه خيرُ أهلي". وقال رسول الله ﷺ:"إنه سيّدُ فِتْيان أهلِ الجنة". وصَبَرَ مع رسولِ الله ﷺ يوم حُنين، فأبصَرَه رسولُ الله ﷺ في عَمَايةِ الصبح، فقال:"مَن هذا؟" قال: ابن أمِّك يا رسولَ الله. حَلَقَه الحلَّاق فقَطَع ثُؤلولًا من رأسِه فلم يَرْقأْ (3) عنه الدمُ حتى ماتَ، وذلك في سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب ﵁. وكان تَلقَّى رسولَ الله ﷺ ببعضِ الطريق ورسولُ الله ﷺ خارجٌ إلى مكةَ للفَتْح، فأسلمَ قبلَ الفَتح (4) .
مصعب بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں سے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ان میں ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میرے گھر والوں میں سب سے بہتر ہے“ یا فرمایا: ”بیشک وہ میرے گھر والوں میں سے بہترین ہے“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”بیشک وہ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“، وہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ثابت قدمی سے) ڈٹے رہے، تو صبح کے اندھیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ماں کا بیٹا (یعنی آپ کا بھائی) ہوں، ایک حجام نے ان کے سر کی حجامت کی تو وہاں موجود ایک مسا (رسولی) کٹ گیا جس سے خون جاری ہو گیا اور وہ نہ رکا یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، یہ واقعہ سنہ 20 ہجری کا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، وہ فتح مکہ کے لیے روانگی کے دوران راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے اور فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5195]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5195] [ترقيم الشركة 5150]