🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

331. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي عُبَيْدَةَ ابْنِ الْجَرَّاحِ فِي الطَّاعُونِ
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی وفات طاعون کے سبب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5227
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أيوب بن عائذٍ الطائي، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال: أتانا كتابُ عمرُ لمّا وقع الوَباءُ بالشام، فكتب عمرُ إلى أبي عُبيدة: إنه قد عَرَضَت لي إليك حاجةٌ لا غِنًى لي بك عنها، فقال أبو عُبيدة: يَرحمُ الله أميرَ المؤمنين، يريدُ بقاءَ قومٍ ليسوا بباقِين، قال: ثم كتب إليه أبو عُبيدة: إني في جيش من جُيوش المسلمين، لست أرغَبُ بنفسي عن الذي أصابَهم، فلما قرأ الكتابَ استرجَعَ، فقال الناس: ماتَ أبو عُبيدة، قال: لا، وكان كتب إليه بالعَزِيمة: فاظْهَرْ من أرض الأُردُنّ، فإنها غَمِقةٌ (1) وبِيّةٌ، إلى أرض الجابيَة، فإنها نَزِهةٌ نَدِيّةٌ، فلما أتاه الكتاب بالعزيمة أمر مُنادِيَه: أذِّن في الناس بالرَّحِيل، فلما قُدِّم إليه (2) ليَركَبَه، وضَعَ رِجْلَه في الغَرْزِ ثَنَى رجلَه، فقال: ما أُرى داءَكم إلَّا قد أصابَني. قال: وماتَ أبو عُبيدة، ورُفع الوَباءُ عن الناس (3) . رُواة هذا الحديثِ كلُّهم ثقات، وهو عَجيبٌ بمرّةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5146 - على شرط الشيخين
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب شام میں طاعون (عمواس) پھیلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمیں موصول ہوا، انہوں نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے آپ سے ایک ضروری کام درپیش ہے جس میں آپ کی موجودگی میرے لیے ناگزیر ہے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے (خط کا مقصد سمجھ کر) فرمایا: اللہ امیر المؤمنین پر رحم فرمائے، وہ ان لوگوں کی بقا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والے نہیں ہیں، پھر انہوں نے جواب لکھا: میں مسلمانوں کے لشکروں میں سے ایک لشکر میں ہوں اور میں خود کو اس تکلیف سے جدا نہیں کرنا چاہتا جو ان سب پر آئی ہے، جب سیدنا عمر نے یہ خط پڑھا تو کلمہ استرجاع (إنا لله وإنا إليه راجعون) پڑھا، لوگوں نے پوچھا: کیا ابو عبیدہ وفات پا گئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، البتہ آپ نے انہیں تاکیدی حکم (عزیمت) لکھا: آپ سرزمینِ اردن سے نکل جائیں کیونکہ یہ نشیبی اور وبائی علاقہ ہے، اور الجابیہ کی طرف چلے جائیں کیونکہ وہ پر فضا اور شاداب مقام ہے، جب یہ تاکیدی خط پہنچا تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں کوچ کا اعلان کر دے، پھر جب سواری کے لیے ان کے پاس جانور لایا گیا اور انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو اسے واپس ہٹا لیا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تمہاری بیماری (طاعون) نے مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور لوگوں سے وہ وبا ختم ہو گئی۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ ایک انتہائی حیرت انگیز روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5227]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن طارق بن شهاب - وإن كان له رؤية وأدرك أبا عُبيدة وعُمر بن الخطاب - لم يحضر هذه الواقعة بالشام، وإنما الذي حضرها وحدَّث طارقَ بنَ شهاب بها هو أبو موسى الأشعري كما في بعض الروايات، وكأنَّ طارقًا هو نفسُه كان يُفصح أحيانًا ...» [ترقيم الرساله 5227] [ترقيم الشركة 5182] [ترقيم العلميه 5146]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5228
أخبرني أبو العباس السَّيّاري في كتاب"الرِّقاق" لابن المبارك، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الحميد بن بَهْرام، عن شَهْر بن حَوشَب، حدثني عبد الرحمن بن غَنْم، عن حديث الحارث بن عَمِيرة الحارثي، قال: أخذ معاذُ بن جَبَل يُرسل الحارثَ بن عَمِيرة إلى أبي عُبيدة بن الجَرّاح يسألُه كيف هو، وقد طُعِنَ، فأراهُ أبو عُبيدة طَعْنةً خرجت في كفِّه فنَكَأَ به (1) شأنُها، وفَرِقَ منها حين رآها، فأقسَم أبو عُبيدة له بالله ما يُحِبُّ أنَّ له مكانَها حُمْرَ النَّعَم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5147 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبدالرحمن بن غنم، حارث بن عمیرہ حارثی سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حارث بن عمیرہ کو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے جبکہ وہ طاعون زدہ ہو چکے تھے، تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طاعون کا وہ زخم دکھایا جو ان کی ہتھیلی پر نکلا ہوا تھا، حارث اسے دیکھ کر سہم گئے، تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ اس (زخم اور شہادت کی علامت) کے بدلے دنیا کی قیمتی ترین دولت (سرخ اونٹ) پانا بھی پسند نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5228]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِينٌ، شهرُ بنُ حَوشَب - وإن كان إلى الضعف أقرب - روايةُ عبد الحميد بن بَهْرام عنه قوية عند بعض أهل العلم. عبد الله: هو ابن المبارك، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة المروزي، وأبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري.» [ترقيم الرساله 5228] [ترقيم الشركة 5183] [ترقيم العلميه 5147]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لِينٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں