المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
368. أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ
سب سے پہلے کھلم کھلا اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد تھے
حدیث نمبر: 5320
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبَهاني، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفَضْل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عمرو بن ميمون حدثني [أبي] (1) : أنَّ أخًا لبلالٍ كان يَنتمي إلى العربِ، ويَزعُم أنه منهم، فخطبَ امرأةً من العرب، فقالوا: إن حَضَرَ بلالُ زَوَّجناكَ، قال: فحَضَرَ بلالٌ، فقال: أنا بلالُ بن رَباحٍ، وهذا أخي، وهو امرؤٌ سَوءٍ، سيِّيءُ الخُلُقِ والدَّين، فإن شئتُم أن تُزوِّجُوه فزَوِّجُوه، وإن شئتُم أن تَدَعُوا فَدَعُوا، فقالوا: مَن تَكُن أخاهُ نُزوِّجه، فزوَّجُوه (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأخو بلالٍ هذا له روايةٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5237 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5237 - صحيح
عمرو بن میمون کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا بھائی عرب کی جانب منسوب ہوتا تھا اور سمجھتا تھا کہ وہ عربی ہے۔ انہوں نے ایک عربی لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا، تو لوگ کہنے لگے: اگر بلال آ کر تمہاری ذمہ داری لے لے تو ہم اس لڑکی کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیں گے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور کہا: کہ میں ہوں بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، اور یہ میرا بھائی ہے۔ بہت بدمزاج اور بد دین ہے، تمہاری مرضی ہو تو اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو، نہیں کرنا چاہتے تو بھی تمہاری مرضی۔ انہوں نے کہا: جس کے تم بھائی ہو ہم اپنی لڑکی کا اس کے ساتھ نکاح کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ان کے بھائی کا نکاح کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بھائی کی یہ روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5320]
حدیث نمبر: 5321
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحُسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: إِنَّ أولَ مَن أظهرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمارٌ وأمُّه سُمَيّةُ وصُهيبٌ والمِقدادُ، وبلالٌ، فأما رسول الله ﷺ، فمنَعَه اللهُ بعَمِّه أبي طالب، وأما أبو بكر فمنَعَه الله تعالى بقومِه، وأما سائرُهم فأخذَهم المشركون فألبَسُوهم أدراعَ الحديد، وأوقَفُوهم في الشمس، فما من أحدٍ إِلَّا قد واتاهُم (1) كلَّ ما أرادوا غيرَ بلال، فإنه هانَتْ عليه نفسُه في الله ﷿، وهانَ على قومِه، فأعطَوه الوِلْدانَ، فجَعَلوا يَطُوفون به في شِعابِ مكةَ، وجعل يقول: أحَدٌ أَحَدٌ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5238 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5238 - صحيح
سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام ظاہر کیا وہ سات آدمی ہیں۔ ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ان کے چچا ابوطالب نے کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان کی قوم نے کیا۔ ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ تھے ان کو مشرکین نے پکڑ کر لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر سخت دھوپ میں ڈال دیا، ان میں سے ہر شخص نے اپنی ہمت کے مطابق اپنا دفاع کیا سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے، کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں مسکین بنا لیا اور لوگوں کے سامنے بھی مسکین بن کر رہے۔ لوگوں نے ان کو بچوں کے سپرد کر دیا وہ ان کو مکہ کی گلی کوچوں میں گھماتے رہتے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ” احد، احد “ کی صدائیں بلند کرتے رہتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5321]