المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
376. ذِكْرُ أَنَسِ بْنِ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مرثد بن ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5336
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا محمد بن الطَّفيل، حدثنا شَريك، عن جامع بن أبي راشد، عن زيد بن أسلم: أنَّ عُمر قال لسعيد بن عامر بن حِذْيَم: ما لأهل الشام يُحبُّونك؟ قال: أُغازِيهم وأُواسِيهم، فأعطاهُ عشرةَ آلافٍ، فردَّها، وقال: إنَّ لي أعبُدًا وأفراسًا، وأنا بخيرٍ، وأريد أن يكون عملي صدقةً على المسلمين، فقال عمر: لا تفعل، إنَّ رسولَ الله ﷺ أعطاني مالًا دُونَها، فقلتُ نحوًا ممّا قلتَ، فقال لي:"إذا أعطاكَ اللهُ مالًا لم تَسأْلهُ، ولم تَشْرَهْ نفسُك إليه، فخُذْه، فإنما هو رِزقُ اللهِ أعطاكَ إيَّاهُ" (2) . ذكرُ أنس بن مرثد بن أبي مَرثَد الغَنَوي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5254 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5254 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر بن حذیم سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام تم سے اتنی والہانہ محبت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عوام کی رعایت اور ان کی مدد کرتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انعام کے طور پر دس ہزار درہم ان کو پیش کئے لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے وہ سب کچھ لینے سے انکار کر دیا کہ میرے پاس اپنے خدام اور گھوڑے وغیرہ موجود ہیں۔ اور میں خود بھی بخیر و عافیت ہوں، میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا یہ عمل مسلمانوں کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے بھی کم مال مجھے عطا فرمایا تھا، اور میں نے بھی تیرے ہی جیسا جواب دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے وہ مال عطا کرے جو تو نے طلب نہیں کیا تھا اور نہ ہی تیرے نفس کو اس کی جانب کوئی خاص دلچسپی ہو تو وہ مال لے لیا کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا خاص رزق ہے جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5336]