المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
464. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابو درداء انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5538
حَدَّثَنَاهُ على بن حَمْشَاذَ العَدلُ، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، عن عمرو بن دينار وعبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزم، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه الذي أُريَ النِّداءَ: أنه أتى رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسول الله، حائطي هذا صدقةٌ، وهو إلى الله ورسوله، فجاء أبواه، فقالا: يا رسول الله كان قِوامَ عَيشنا، فردَّه رسولُ الله ﷺ إليهما، ثم ماتا فورثَهما ابنُهما بعدُ (1) ذكرُ مناقب أبي الدَّرداء عُويمر بن زيد الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5448 - فيه إرسال
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5448 - فيه إرسال
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالله بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ (جن کو خواب میں اذان بتائی گئی تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ باغ اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ میں دیا۔ ان کے والدین نے آ کر بتایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی باغ ہماری گزر اوقات کا واحد ذریعہ تھا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کو واپس کر دیا۔ پھر جب وہ دونوں فوت ہو گئے تو ان کے بعد ان کے بیٹے کو وراثت میں دے دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5538]
حدیث نمبر: 5539
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وأبو الدَّرْداء عُوَيمِر بن زيد بن قيس بن عائشة (1) ابن أُمية بن مالك بن عامر بن عَدِيّ بن كعب بن الخَزرج بن الحارث بن الخَزرج، وقيل: إِنَّ اسم أبي الدَّرْداء عامرٌ، ولكنه صُغِّر فقيل: عويمر، وأمُّه محبة بنت واقد بن عمرو بن الإطنابة بن عامر بن زيد مَنَاة بن مالك بن ثعلبة بن كعب. وكان أبو الدرداء - فيما ذُكر - آخر داره إسلامًا، لم يَزَل متعلقًا بصنَمٍ له قد وَضَعَ عليه منديلًا، وكان عبد الله بن رَوَاحة يَدعُوه إلى الإسلام فيأبي، فتَحيَّنَه عبد الله بنُ رواحة، وكان له أخًا في الجاهلية والإسلام (2) ، فلما رآهُ قد خرج مِن بَيتِه خالفَه، فدخَل بيته، وأعجَلَ امرأته وإنها لتمشُط رأسها، فقال: أين أبو الدَّرْداء؟ فقالت: خرج أخوك آنفًا، فدخل بَيتَه الذي كان فيه الصَّنمُ ومعه القَدُوم، فأنزله وجعلَ يَفْلِذُه فَلْذًا فَلْذًا، وهو يَرتَجزُ: تبرّأ (3) من اسماءِ الشَّياطين كُلِّها … ألا كلُّ ما يُدعَى معَ الله باطلُ ثم خرج وسمعتِ المرأةُ صوت القَدُوم، وهو يضربُ ذلك الصنَمَ، فقالت: أهلكتني يا ابن رواحة، فخرج على ذلك، فلم يكن شيءٌ حتى أقبل أبو الدَّرْداء إلى منزله، فدخل فوجد المرأةَ قاعدةً تبكي شَفَقًا منه، فقال: ما شأنُك؟ قالت: أخُوك عبدُ الله بنُ رَوَاحة دخل عليَّ فصنَع ما تَرى فَغَضِبَ غضبًا شديدًا، ثم فكَّر في نفسِه، فقال: لو كان عند هذا خيرٌ لَدَفَع عن نفسه، فانطلق حتى أتى رسول الله ﷺ ومعه ابن رَواحةَ، فأسلم. وقيل: إنَّ رسول الله ﷺ نَظَر إلى أبي الدرداء والناسُ مُنهزِمُون كُلَّ وَجْهٍ يومَ أُحُد، فقال:"نِعمَ الفارسُ عُوَيمرٌ غيرَ أُفَّةٍ (1) " يعني: غير ثقيلٍ. قال ابن عُمر: وسمعت من يَذكُر أن أبا الدَّرداء لم يشهد أحُدًا. وقد كان من عِلْية أصحاب رسول الله ﷺ، وقد شَهِدَ معه مَشاهِدَ كثيرةً. قال ابن عمر: وتُوفّي أبو الدَّرْداء بدمشقَ سنة اثنتين وثلاثين في خلافة عثمان بن عفان ﵁ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5449 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5449 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے۔” ابوالدرداء عویمر بن زید بن قیس بن خناسہ بن امیہ بن مالک بن عامر بن عدی بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج “ بھی کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ کا نام ” عامر “ تھا لیکن یہ چھوٹے تھے، اس لئے ان کو عویمر کہا جانے لگا۔ ان کی والدہ ” محبہ بنت واقد بن عمرو بن اظنابہ بن عامر بن زید مناۃ بن مالک بن ثعلبہ بن کعب “ ہیں۔ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اپنے خاندان میں سب سے آخر میں ایمان لائے۔ یہ ہمیشہ اپنا بت اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اس کے اوپر ایک رومال ڈال کر رکھتے تھے، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ان کو اکثر اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے لیکن یہ انکار کر دیا کرتے تھے، ایک دن عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، یہ زمانہ جاہلیت میں ان کے بھائی بنے ہوئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ گھر سے باہر چلے گئے ہیں تو ان کے گھر میں داخل ہو گئے اور ان کی بیوی کے پاس گئے وہ اس وقت اپنے سر میں کنگھی کر رہی تھی، انہوں نے پوچھا: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟ ان کی زوجہ نے کہا: تمہارا بھائی ابھی باہر نکلا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کلہاڑا لے کر اس کمرے میں گئے جس میں انہوں نے اپنا بت رکھا ہوا تھا اس کو نیچے گرایا اور ریزہ ریزہ کر ڈالا اور شیطان کا ایک ایک نام لے کر یوں کہہ رہے تھے ” خبردار ہر وہ چیز جس میں اللہ کے ہمراہ عبادت کی جائے وہ باطل ہے “ جب سیدنا عبداللہ ہبن رواحہ رضی اللہ عنہ اس بت کو کلہاڑے سے توڑ رہے تھے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی زوجہ کلہاڑے کی آواز سن کر بولی: اے ابن رواحہ تو نے مروا دیا۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ان کی آواز سن کر باہر تشریف لے آئے۔ اس کے بعد سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس آئے، تو دیکھا کہ ان بیوی خوف کے مارے رو رہی ہے۔ انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتا دیا کہ تمہارا بھائی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آیا تھا اور دیکھ لو تمہارے بت کا یہ حشر کر کے چلا گیا ہے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو بہت شدید غصہ آیا لیکن انہوں نے کچھ دیر سوچا اور جب سوچا تو یہ نتیجہ نکالا کہ اگر اس کے پاس کوئی بھلائی ہوتی تو یہ اپنے آپ کو بچا نہ لیتا، وہ وہیں سے چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ جنگ احد کے دن جب لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا: عویمر کتنا اچھا شہسوار ہے مگر یہ کہ وہ غیر مسافر واقع ہوا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شریک نہیں ہوئے تھے البتہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بہت سارے غزوات میں شریک ہوئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی دور خلافت میں سن 32 ہجری کو دمشق میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5539]