🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

482. سُورَةُ الْبُحُوثِ سُورَةُ التَّوْبَة- تَسْمِيَةُ أَوَّلِ مَنْ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَهُمْ سَبْعَةٌ ِ
سورۂ براءت (سورۂ توبہ) — سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والوں کے نام، جو سات تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5577
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن مُخارقٍ، عن طارِقٍ، عن عبد الله، قال: شَهِدتُ من المقداد مشهدًا لأن أكونَ صاحِبَه أَحبُّ إليَّ مما عُدِلَ؛ أنه أتى النَّبِيّ ﷺ وهو يدعُو على المشركين، فقال: إنا واللهِ يا رسولَ الله لا نقولُ كما قال قومُ موسى لموسى: ﴿اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [المائدة: 24] ولكنا نقاتلُ عن يَمينِك وعن شِمالِك، ومن بين يَدَيك ومن خَلْفِك، فرأيتُ النَّبِيَّ ﷺ يُشرِقُ لذلك، وسَرَّهُ ذلك (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5486 - صحيح
سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا مقداد کی جگہ ایک جنگ میں شریک ہوا، اس کے بدلے میں مال غنیمت لینے کی بجائے مجھے یہ بات زیادہ عزیز ہے کہ میں مقداد کا ساتھی بنوں، کیونکہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے کہ اے موسیٰ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے آپ پر اپنی جان نچھاور کریں گے، میں نے دیکھا کہ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور چمک اٹھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5577]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5578
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا عبد الوهاب بن نَجْدةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا بَقيّة بن الوليد، عن حَرِيز بن عثمان، قال: حدثني عبد الرحمن بن مَيْسَرَة الحَضْرَمي، حدثني أبو راشد الحُبْراني، قال: رأيتُ المِقدادَ بنَ الأسود حارِسَ رسولِ الله ﷺ جالسًا على تابُوتٍ من تَوابِيتِ الصَّيارِفة بحِمْص، قد أفضَلَ على التابوتِ من عِظَمِه، يريدُ الغَزْوَ، فقلتُ له: لقد أعذَرَ اللهُ إليك، فقال: أبَتْ علينا سورةُ البَحُوثِ: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ، قال بَقيّة: سورةُ البَحُوث: سورةُ التوبة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد ذكرتُ في أول مناقب أبي بكر الصَّدّيق ﵁ (1) حديثَ عبد الله بن مسعود: أولُ مَن أظهَرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمّار وأمُّه سُميَّة وصُهيب وبِلال والمِقداد.
ابوراشد حرانی فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مقام حمص میں ایک تجارتی تابوت پر بیٹھے ہوئے تھے بڑھاپے کی وجہ سے تابوت پر سوار ہو گئے اور جہاد میں شرکت کا ارادہ کئے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے بڑھاپے کی وجہ سے آپ کے عذر کو قبول کیا ہے (آپ پھر کیوں جہاد پر جا رہے ہیں؟) انہوں نے جواباً کہا: سورۃ توبہ کی اس آیت نے مجھے جہاد پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ﴿اِنفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً﴾ (التوبۃ: 41) کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے سیدنا بقیہ فرماتے ہیں: سورۃ توبہ کو سورت بحوث بھی کہا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔" (امام حاکم فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث پاک نقل کی ہے کہ سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا سمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5578]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں