المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
502. ذِكْرُ أَوَّلِ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ کی راہ میں سب سے پہلے کھینچی جانے والی تلوار کا بیان
حدیث نمبر: 5649
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أسَد بن موسى، حَدَّثَنَا سُكَين بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا حفص بن خالد، حدثني شيخٌ قَدِمَ علينا من المَوصل، قال: صحبتُ الزُّبير بن العوّام في بعض أسفارِه، فأصابتْه جنابةٌ في أرضٍ قَفْرٍ، فقال: استُرني، فستَرْتُه، فحانت مني التِفاتَةٌ إليه، فرأيتُه مُجدَّعًا بالسُّيوف، فقلتُ: والله لقد رأيتُ بك آثارًا ما رأيتُها بأحدٍ قطُّ، فقال: وقد رأيتَ ذاكَ؟ فقال: واللهِ ما منها جِراحَةٌ إِلَّا مع رسولِ الله ﷺ في سبيل الله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5550 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5550 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حفص بن خالد فرماتے ہیں: مجھے اس بزرگ نے یہ حدیث بیان کی ہے جو کہ مقام موصل سے ہمارے پاس آئے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ سفر کئے ہیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحراء میں ان کو غسل کی حاجت ہو گئی، انہوں نے مجھ سے کہا: میرے لئے پردہ کرو، میں نے ان کے لئے کپڑے سے پردہ کیا، وہ غسل کرنے لگ گئے، اچانک میری نگاہ ان کے جسم پر پڑ گئی، میں نے دیکھا کہ ان کا سارا جسم تلواروں کے زخموں کے نشانات سے چھلنی تھا۔ میں نے ان سے کہا: خدا کی قسم! میں نے آپ کے جسم پر زخموں کے ایسے نشانات دیکھے ہیں جو آج سے پہلے میں نے کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھے، انہوں نے جواباً کہا: کیا تم نے میرے جسم کے زخموں کے نشانات دیکھ لئے ہیں؟ پھر فرمایا: خدا کی قسم! یہ تمام زخم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں جنگ کرتے ہوئے آئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5649]