🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

525. ذِكْرُ نِكَاحِ طَلْحَةَ بِأُمِّ أَبَانَ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے اُمِّ ابان سے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5714
أخبرني عُبيد الله بن محمد بن أحمد البَلْخِيّ ببغداد من أصل كتابه، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل التِّرمِذي، حدثنا سليمان بن أيوب بن سليمان بن عيسى بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله القرشي، حدثني أبي، عن جدِّي، عن موسى بن طلحة، عن طَلْحة بن عبيد الله، قال: خَطَبَ عُمر بن الخَطّاب أمَّ أبانَ بنتَ عُتبةَ بن ربيعة بن عبد شَمْس، فأبَتْه، فقيل لها: ولِمَ؟ قالت: إن دخَل دخَل بيأسٍ، وإن خرَج خرَج بيأسٍ، قد أذهَلَه أمرُ آخرَتِه عن أمرِ دُنياهُ، كأنه يَنظُر إلى ربِّه بعَينَيه، ثم خَطَبَ الزُّبيرُ بن العوّام، فأبَتْه، فقيل لها: ولِمَ؟ قالت: ليس لِزَوجَتِه منه إلّا شارةٌ في قَرامِلِها، ثم خَطَبها عليٌّ، فأبَتْ، قيل لها: ولِمَ؟ قالت: ليس لزوجته منه إلَّا قَضاءُ حاجَتِه، ويقول: كَيتَ وكَيْتَ، وكانَ وكانَ، ثم خطبها طَلْحةُ، فقالت: زَوْجِي حقًّا، قالوا: وكيف ذاكِ؟ قالت: إني عارفةٌ بخَلائِقِه، إن دَخَلَ دخل ضحّاكًا، وإن خرَج خرَج بسّامًا، إن سألتُ أعطَى، وإن سكَتُّ ابتدأَ، وإن عَمِلتُ شَكَر، وإن أذنبتُ غَفَر، فلما أن ابتَنَى بها، قال عليٌّ: يا أبا محمد، إن أذِنْتَ لي أن أُكلِّمَ أمَّ أبان؟ قال: كلَّمْها، قال: فأخذَ بسَجْفِ الحَجَلة، ثم قال: السلامُ عليكم يا عَزيزةَ نفسِها، قالت: وعليكَ السلامُ، قال: خَطَبكِ أميرُ المؤمنين وسيِّدُ المسلمين فأبَيتِيهِ، قالت: كان ذلك، قال: وخَطبَكِ الرُّبيرُ ابن عمّةِ رسول الله ﷺ وأحدُ حَوَارِيِّه فأبَيتِ، قالت: وقد كان ذلك، قال: وخطبتُك أنا وقَرابَتي من رسول الله ﷺ، قالت: قد كان ذلك، قال: أما واللهِ لقد تَزَوَّجتِ أحسَنَنا وجهًا، وأنالَنا (1) كفًّا، يُعطي هكذا وهكذا (2) .
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کر دیا، ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: وہ جب گھر میں داخل ہوتے ہیں تو (آخرت کی) فکر و پریشانی کے ساتھ اور جب باہر جاتے ہیں تو اسی فکر میں ہوتے ہیں، آخرت کے معاملے نے انہیں دنیا کے معاملات سے بیزار کر رکھا ہے، گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں، پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے انکار کر دیا، پوچھا گیا کیوں؟ انہوں نے کہا: ان کی بیوی کے لیے ان کے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اس کے بالوں میں آرائشی پٹیاں سجا دیں (یعنی وہ سخت مزاج اور خشک طبع ہیں)، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کر دیا، پوچھا گیا کیوں؟ انہوں نے کہا: ان کی بیوی کے لیے ان کے پاس صرف اپنی ضرورت پوری کرنے کے سوا کچھ نہیں اور وہ بس یہی تذکرے کرتے رہتے ہیں کہ ایسا ہوا اور ویسا ہوا (یعنی سیاسی و علمی مشاغل میں منہمک رہتے ہیں)، پھر انہیں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: یہ میرے حقیقی شوہر ہیں، لوگوں نے پوچھا یہ کیسے؟ انہوں نے کہا: میں ان کے اخلاق سے واقف ہوں، وہ جب گھر میں داخل ہوتے ہیں تو ہنستے ہوئے اور جب باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے، اگر میں کچھ مانگوں تو عطا کرتے ہیں اور اگر خاموش رہوں تو خود ہی پہل کرتے ہیں، اگر میں کوئی نیک کام کروں تو شکریہ ادا کرتے ہیں اور اگر مجھ سے خطا ہو جائے تو درگزر کرتے ہیں، پھر جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کر لی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو محمد! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں ام ابان سے بات کروں؟ انہوں نے کہا: ضرور کریں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خیمے کا پردہ پکڑ کر فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا عَزِيزَةَ نَفْسِهَا» اے اپنی جان کو عزیز رکھنے والی! تم پر سلام ہو، انہوں نے کہا: اور آپ پر بھی سلام ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں امیر المؤمنین اور مسلمانوں کے سردار نے پیغام دیا تو تم نے انکار کر دیا، انہوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہوا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد اور آپ کے حواری (زبیر) نے پیغام دیا تو تم نے انکار کر دیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قرابت داری نے تمہیں پیغام دیا تو تم نے انکار کر دیا، انہوں نے کہا: ایسا ہی ہوا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما واللہ! تم نے ہم سب میں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے اور سب سے زیادہ سخی شخص سے شادی کی ہے جو اس طرح اور اس طرح (دونوں ہاتھوں سے) عطا کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5714]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد تقدم الكلام على هذه السلسلة عند الحديث (5691).» [ترقيم الرساله 5714] [ترقيم الشركة 5660]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5715
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيْري (3) ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن طَلْحة بن يحيى، حدثتني جدتي سُعْدى بنت عَوف المُرِّية، قالت: دخَلَ عليَّ طلحةُ، فوجدتُه مَغمُومًا، فقلت: ما لي أراك كالِحَ الوجْهِ؟ أَرابَك من أمْرِنا شيءٌ؟ قال: لا والله، ما رابَني من أمرِك شيءٌ، ولَنِعمَ الصاحبةُ أنتِ، ولكنّ مالًا اجتمع عندي، قالت: فابعثْ إلى أهلِ بيتك وقَومِك، فاقسِمْ فيهم، قالت: ففَعَل، فسألتُ الخازِنَ: كم قَسَم؟ فقال: أربعَ مئةِ ألفٍ، وكان غَلَّتَه كلَّ يومِ ألفٌ وافٍ. قال: وكان يُسمّى طلحةَ الفَيّاضَ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا طلحہ بن یحییٰ اپنی دادی سیدہ سعدیٰ بنت عوف مریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے انہیں غمگین پایا، میں نے پوچھا: کیا بات ہے میں آپ کا چہرہ اترا ہوا دیکھ رہی ہوں؟ کیا ہماری طرف سے کوئی ایسی بات ہوئی ہے جو آپ کو ناگوار گزری ہو؟ انہوں نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! تمہاری طرف سے کوئی ناگواری نہیں ہوئی، تم تو بہترین رفیقہ حیات ہو، اصل بات یہ ہے کہ میرے پاس بہت زیادہ مال جمع ہو گیا ہے (جس کی وجہ سے پریشان ہوں)، انہوں نے کہا: تو آپ اپنے اہل خانہ اور اپنی قوم میں اسے تقسیم کر دیں، راویہ کہتی ہیں: چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، میں نے خزانچی سے پوچھا کہ انہوں نے کتنا مال تقسیم کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ: چار لاکھ (درہم)، اور ان کی روزانہ کی آمدنی ایک ہزار وافی (درہم) تھی، اسی بنا پر انہیں طلحہ الفیاض (بہت زیادہ سخاوت کرنے والا) کہا جاتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5715]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل طلحة بن يحيى» [ترقيم الرساله 5715] [ترقيم الشركة 5661] [ترقيم العلميه 5615]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں