🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

570. ذِكْرُ جَمَاعَةِ أَصْحَابِ أُوَيْسٍ
سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے اصحاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5831
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم بن عبد الله بن معاوية السَّيّاري، شيخُ أهل الحقائق في عصره بخُراسان ﵀، قال: أخبرنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو بن المُوجِّه الفَزَاري، أخبرنا عَبْدانُ بن عثمان (2) ، أخبرنا عبد الله بن الشُّمَيط ابن عَجْلان، عن أبيه، أنه سمع أسلَمَ العِجْليَّ يقول: حدثني أبو الضَّحّاك الجَرْمي، عن هَرِم بن حيَّان العَبْدي، قال: قدمتُ الكوفةَ، فلم يكن لي همٌّ إلَّا أُويسٌ القَرَني؛ أَطلبُه وأسألُ عنه، حتى سقَطتُ عليه جالسًا وحدَه على شاطئ الفُرات نصفَ النهارِ، يتوضّأ ويَغسِل ثوبَه، فعرفتُه بالنَّعتِ، فإذا رجلٌ لَحِمٌ، آدَمُ شديدُ الأُدْمةِ، أشعَرُ مَحلُوقُ الرأسِ - يعني ليس له جُمَّةٌ - كثُّ اللِّحيةِ، عليه إزارٌ من صُوفٍ ورداءٌ من صُوفٍ بغير حِذاء، كَرِيهُ الوجه، مهيبُ المَنظَرِ جدًّا، فسلّمتُ عليه، فردَّ علَيَّ ونَظَر إليَّ، فقلت (1) : حيّاك اللهُ من رجلٍ، فمَدَدتُ يدي إليه لأصافِحَه، فأَبى أن يُصافِحَني، وقال: وأنتَ فحيّاك اللهُ، فقلت: رَحِمَك اللهُ يا أُويس، وغَفَر لك، كيف أنتَ رحِمَك الله؟ ثم خَنقَتْني العَبْرةُ من حُبّي إياه، ورِقّتي له لما رأيتُ من حالِه، أو رأيتُ من حالِه ما رأيتُ حتى بَكَيتُ وبكى، ثم قال: وأنت فرَحِمَك اللهُ يا هرِمَ بنَ حَيّان، كيف أنتَ يا أخي؟ مَن دلك علَيَّ؟ قال: قلتُ: اللهُ، قال: لا إله إلَّا الله ﴿سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا﴾، [فعَجِبتُ منه] (2) حين سمّاني، ولا والله ما كنتُ رأيتُه قطُّ، ولا رآني، ثم قلتُ: من أين عرفَتَني وعرفتَ اسمي واسمَ أبي؟ فوالله ما كنتُ رأيتُك قطُّ قبلَ هذا اليوم؟ قال: نبّأَني العليمُ الخَبيرُ، عرفَتْ رُوحِي رُوحَك حيثُ كلَّمتُ نفسي نفسَك، إنَّ الأرواح لها أنفُسٌ كأنفُس الأحياء، إنَّ المؤمنين يعرف بعضُهم بعضًا، ويَتحدّثون بروح الله وإن لم يَلتَقُوا، ويتعارفُوا وإن لم يتكلَّموا، وإنْ نأَتْ بهمُ الديارُ وتفرَّقت بهمُ المَنازِل، قال: قلت: حدِّثني عن رسول الله ﷺ بحديثٍ أحفَظْه عنك، قال: إني لم أُدرِك رسولَ الله ﷺ، ولم تكن لي معه صحبةٌ، ولقد رأيتُ رجالًا قد رأَوه، وقد بلغني من حديثه كما بَلَغكم، ولست أحبُّ أن أفتحَ هذا البابَ على نفسي؛ أن أكونَ محدِّثًا أو قاصًّا أو مُفتيًا، في النفس شُغْلٌ يا هَرِمَ بن حيّان. قال: فقلتُ: يا أخي، اقرأْ عليَّ آياتٍ من كِتاب الله أسمعهُنَّ منك، فإني أُحبُّك في الله حبًّا شديدًا، وادعُ بدَعَوات وأَوصِ بوصيةٍ أحفَظْها عنك، قال: فأخذ بيدي على شاطئ الفُرات، وقال: أعوذُ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم، قال: فشَهِقَ شَهْقةً، ثم بكى مكانَه، ثم قال: قال ربي جَلَّ ذكرُه، وأحقُّ القول قولُه، وأصدقُ الحديثِ حديثُه، وأحسنُ الكلام كلامُه: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (38) مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ حتى بلغ ﴿إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ [الدخان: 38 - 42] ، ثم شَهِقَ شَهْقَةٌ، ثم سكتَ، فنظرتُ إليه وأنا أحسبه قد غُشِي عليه، ثم قال: يا هَرمَ بنَ حيّان، مات أبوكَ وأوشكَ أن تموتَ، ومات أبو حيّان، فإما إلى الجنة وإما إلى النار، ومات آدمُ وماتت حوّاءُ يا ابن حيّان، ومات نُوحٌ وإبراهيمُ خليلُ الرحمن يا ابن حَيّان، ومات موسى نَجِيُّ الرحمن يا ابن حيّان، ومات داودُ خليفةُ الرحمن يا ابن حيّان، ومات محمدٌ رسولٌ الرحمن، ومات أبو بكر خليفةُ المسلمين يا ابن حيّان، ومات أخي وصفيّي وصديقي عمر بن الخطاب، ثم قال: واعُمَراه، رحم الله عُمَرَ، وعمرُ يومئذٍ حيٌّ، وذلك في آخر خلافتِه، قال: فقلت له: رحمك الله، إنَّ عمر بن الخطاب بعدُ حيٌّ، قال: بلى، إن ربي نَعاهُ إليَّ، إن كُنتَ تَفهَمُ فقد علمت ما قلتُ، وأنا وأنت في المَوتى، وكان قد كان، ثم صلَّى على النبيِّ ﷺ ودعا بدَعَواتٍ خِفافٍ. ثم قال: هذه وصيَّتي إليك يا هَرِمَ بنَ حيّان: كتابَ الله، وبقايا الصالحين من المسلمين، والصلاةَ على النبيّ ﷺ، ولقد نُعِيَت إليَّ نفسي ونفسُك، فعليك بذكر الموتِ، فلا يُفارقَنَّ قلبَك طَرْفةَ عَين، وأنذِرْ قومَك إذا رجعتَ إليهم، وانصَحْ أهلَ مِلّتِك جميعًا، واكدَحْ لنفسِك، وإيايَ وإياكَ أن تُفارقَ الجماعةَ فتُفارقَ دِينَك وأنت لا تعلَمُ، فتدخلَ النارَ يومَ القيامة. قال: ثم قال: اللهمَّ إن هذا يَزعُم أنه يُحِبُّني فيك، وزارني من أجلِك، اللهم عَرِّفني وجهَه في الجنة، وأدخِلْه عليَّ زائرًا في دارِك دارِ السلام، واحفَظْه ما دام في الدنيا حيثُما كان، وضُمّ عليه ضَيعَته، ورضِّه من الدنيا باليَسير، وما أَعطيتَه من الدنيا فيَسِّرْه له، واجعلْه لما تُعطيه من نِعمتِك من الشاكرين، واجْزِهِ خيرَ الجزاء. استَودعتُك الله يا هَرمَ بن حيّان، والسلام عليك ورحمةُ الله، ثم قال لي: لا أراكَ بعدَ اليوم رَحِمَك اللهُ، فإن أكره الشُّهرةَ، والوَحْدةُ أحبُّ إليَّ، لأني شديدُ الغَمِّ كثيرُ الهَمِّ ما دُمتُ مع هؤلاء الناس حيًّا في الدنيا، ولا تسألْ عنّي ولا تَطلُبْني، واعلم أنك مِنّي على بالٍ وإن لم أرَكَ ولم تَرَني، فاذكُرْني وادْعُ لى، فإني سأذكُرُك وأدعُو لك إن شاء الله، انطلِقْ هاهُنا حتى أخُذَ هاهُنا قال: فحَرَصتُ على أن أسيرَ معه ساعةً، فأبى عليَّ، ففارقته يَبكي وأبكي، قال: فجعلتُ أنظُرُ في قَفاهُ حتى دخل في بعض السِّكَك، فكم طلبتُه بعد ذلك وسألتُ عنه، فما وجدتُ أحدًا يُخبِرُني عنه بشيءٍ، فرَحِمَه اللهُ وغَفَر له، وما أنتْ عليَّ جُمعةٌ إلَّا وأنا أَراه في منامي مرةً أو مرتَين، أو كما قال (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5726 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہرم بن حیان عبدی کہتے ہیں: میں کوفہ میں گیا، اور وہاں جانے کا میرا واحد یہی مقصد تھا کہ میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کروں اور ان سے کچھ باتیں پوچھوں۔ (ان کو ڈھونڈتا رہا) حتیٰ کہ نہر فرات کے کنارے پر دوپہر کے وقت وہ اکیلے بیٹھے اپنے کپڑے دھو رہے تھے اور وضو کر رہے تھے، میں نے ان کی نشانیوں کی وجہ سے ان کو پہچان لیا۔ میں نے ان کو دیکھا، وہ بھرے ہوئے جسم والے گندم گوں شخص تھے۔ ان کے سر پر کثیر بال تھے لیکن وہ سر منڈوا کر رکھتے تھے، یعنی وہ چٹیا نہیں رکھتے تھے، داڑھی گھنی تھی، اون کا بنا ہوا لباس پہنتے تھے اور اون کی بنی ہوئی ایک چادر بھی ہوتی تھی، موزے نہیں پہنتے تھے، چہرہ بھاری اور رعب دار تھا، میں نے اس کو سلام کیا، انہوں نے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے میری جانب دیکھا، اور مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے بولے: تم کون ہو؟ میں نے ان سے مصافحہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، لیکن انہوں نے میرے ساتھ مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اور مجھے دعا دیتے ہوئے اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کا کہا۔ میں نے کہا: اے اویس! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، اور اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کا کیا حال ہے؟ اس کے بعد اس محبت نے مجھ پر شدید غلبہ کر لیا جو میرے دل میں سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے بارے میں موجود تھی، اور جب میں نے ان کی حالت زار دیکھی تو مجھ پر ایک رقت طاری ہو گئی۔ ان کی حالت پر مجھے رونا آ گیا، اور میرے ساتھ ساتھ وہ بھی رو دئیے۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے ہرم بن حیان تمہارا کیا حال ہے؟ اور تمہیں میرے بارے میں کس نے بتایا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے، اس دن سے پہلے نہ تو انہوں نے مجھے دیکھا تھا اور نہ میں نے ان کو دیکھا تو لیکن انہوں نے جب مجھے نام لے کر مخاطب کیا تو میں نے ان سے پوچھا: آپ مجھے کیسے جانتے ہیں اور میرے والد کے نام کا آپ کو کس نے بتایا؟ حالانکہ آج سے پہلے میری آپ کے ساتھ کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا: مجھے علم اور خبر رکھنے والے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ جب تم نے میرے ساتھ بات کی تو میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا۔ زندہ انسانوں کی طرح روح میں بھی عقل ہوتی ہے اور یہ بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچان لیتی ہیں، آپس میں گفتگو کرتی ہیں، اگرچہ ہمارے جسم ایک دوسرے سے ملاقات اور بات چیت نہ کریں اگرچہ بظاہر ایک دوسرے کو نہ پہچانتے ہوں۔ اگرچہ یہ الگ الگ شہروں میں الگ الگ مقامات پر رہتے ہوں، (پھر بھی جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں) میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے جو میں آپ کے حوالے سے یاد رکھوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی سعادت ملی، ہاں البتہ میں نے ایسے بہت سارے لوگوں کی زیارت کی ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ اور جیسے تم لوگوں نے ان سے احادیث سن رکھی ہیں اسی طرح میرے پاس بھی کسی صحابی سے سنی ہوئی احادیث موجود ہیں، لیکن میں اپنے آپ کو محدث، قاضی یا مفتی نہیں کہلوانا چاہتا۔ اے حرم بن حیان! دل تو اس طرح کے معاملات کی خواہش کرتا رہتا ہے۔ (ہرم بن حیان) کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ میرے بھائی! آپ قرآن کریم کی کوئی آیت ہی پڑھ دیجئے، میں تم سے وہی سن لیتا ہوں۔ کیونکہ میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں، اور آپ میرے لئے دعا بھی فرمائیں اور مجھے کوئی وصیت بھی فرمائیں۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نہر فرات کے کنارے لے گئے اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا، یہ پڑھتے ہوئے آپ سسکیاں لینے لگے اور پھر رو پڑے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قول سب سے برحق قول ہے، اس کی بات سب سے سچی بات ہے اور اس کا کلام سب سے اچھا کلام ہے، اس نے ارشاد فرمایا ہے: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (سورۃ الدخان، آیت 38، 39، 40، 41، 42) اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں بیشک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہو گی مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے یہ آیات پڑھنے کے بعد آپ پھر سسکیاں لینے لگے، کچھ دیر بعد خاموش ہو گئے، میں نے ان کو دیکھا تو مجھے لگا کہ شاید آپ بے ہوش ہو چکے ہیں، پھر انہوں نے فرمایا: اے ہرم بن حیان، تیرا والد فوت ہو گیا ہے اور عنقریب تم بھی فوت ہونے والے ہو، ابوحیان فوت ہو گئے ہیں، وہ یا تو جنتی ہیں یا دوزخی ہیں۔ اور اے ابن حیان! سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا حوا رضی اللہ عنہا وفات پا گئے اے ابن حیان! اور سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام وفات پا گئے، اے ابن حیان! سیدنا موسیٰ نجی الرحمن علیہ السلام اور سیدنا داؤد خلیفۃ الرحمن علیہ السلام بھی وفات پا گئے، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا گئے، اے ابن حیان! خلیفۃ المسلمین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی وفات پا گئے، اس کے بعد وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے میرے بھائی اور دوست سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وفات پا گئے، ہائے عمر رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ تم پر رحمتیں نازل کرے، یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ابھی زندہ تھے اور یہ ان کی خلافت کے آخری ایام کا واقعہ ہے۔ میں نے سیدنا اویس رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تو ابھی زندہ ہیں۔ اگر تجھ میں ذرا بھی سمجھ ہوئی تو تم جان لو گے کہ میرے کہنے کا کیا مطلب تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ تو اور میں بھی مردوں میں شمار ہیں۔ اور یہ سب ہو کر رہے گا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود پاک پڑھا، اور اس کے بعد کافی ساری مختصر دعائیں مانگیں۔ پھر فرمایا: اے ابن حیان! میری طرف سے یہ تمہیں وصیت ہے کہ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامو، اور صالحین سے ملاقات کرتے رہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے رہو، میں تمہیں اپنی اور تمہاری موت کی خبر دیتا ہوں، اس لئے تم پر لازم ہے کہ موت کو یاد رکھا کر، ایک لمحہ کو بھی اس کو اپنے سے جدا نہ کر اور جب تو لوٹ کر اپنے قبیلے میں جائے تو ان کو ڈر سنا اور اپنی پوری ملت کے لئے نصیحت کر، اور اپنی ذات کے لئے محنت کر، اور جماعت سے الگ ہونے سے اپنے آپ کو بچا (اگر تو جماعت سے الگ ہو گیا تو) دین سے دور ہو جائے گا، اور اس دوری کا تجھے پتہ بھی نہیں چلے گا اور تو قیامت کے دن دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! یہ شخص سمجھتا ہے کہ یہ تیری رضا کی خاطر مجھ سے محبت کرتا ہے، اور یہ صرف تیری رضا کی خاطر میری ملاقات کے لئے آیا ہے یا اللہ جنت میں مجھے اس کے چہرے کی پہچان کرانا، اور وہاں پر اس کی میرے ساتھ ملاقات کروانا، جب تک اس کی زندگی ہے، اس کی حفاظت فرما، اور اس کو اس کی جائیداد عطا فرما، اور اس کو دنیا کی تھوڑی نعمت پر راضی ہونے والا بنا، اے اللہ تو اس کو دنیا کا جتنا حصہ عطا فرمائے وہ اس کے لئے آسان فرما، اور جب تو اس کو نعمتیں عطا کر چکے تو اس کو اپنی نعمت کا شکر گزار بنا، اور اس کو جزائے خیر عطا فرما، یا اللہ! میں نے ہرم بن حیان کو تیرے سپرد کیا، والسلام علیک و رحمۃ اللہ۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: میں آج کے بعد تمہیں نہ دیکھوں۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔ دراصل میں شہرت کو ناپسند کرتا ہوں اور خلوت و تنہائی کو پسند کرتا ہوں۔ کیونکہ جب تک میں لوگوں کے ساتھ دنیا میں زندہ ہوں، تب تک میں غمگین اور پریشان ہی رہوں گا۔ (آج کے بعد) تم میرے بارے میں کبھی کسی سے مت پوچھنا اور نہ ہی مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرنا۔ میری طرف سے تمہاری یہ ذمہ داری ہے۔ نہ تم مجھے دیکھنا اور نہ میں تمہیں دیکھوں۔ بس تم مجھے یاد کر کے میرے لئے دعا کیا کرنا اور ان شاء اللہ تعالیٰ میں تمہیں یاد کر کے تمہارے لئے دعا کیا کروں گا۔ تم یہاں سے چلے جاؤ، وہ فرماتے ہیں: میں نے خواہش کی کہ کچھ دور تک میں ان کے ہمراہ چلوں لیکن انہوں نے مجھے ساتھ چلنے سے منع کر دیا اور مجھے خود سے جدا کر دیا، جدا ہوتے ہوئے وہ بھی رو دیئے اور میری بھی آنکھیں چھلک پڑیں۔ (ہرم بن حیان) کہتے ہیں: میں ان کو جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھتا رہا حتیٰ کہ وہ ایک گلی میں مڑ گئے، اس کے بعد میں نے ان کو بہت ڈھونڈا اور بہت لوگوں سے ان کے بارے میں پوچھا، لیکن مجھے کوئی شخص ایسا نہ ملا جو ان کے بارے میں کچھ بتاتا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرمائے۔ اس کے بعد ہر جمعہ کو ایک یا دو مرتبہ خواب میں مجھے آپ کی زیارت ہوتی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5831]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5832
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا علي بن حكيم، حدثنا شَريكٌ، قال: ذَكَروا في مجلسه أُويسًا القَرَني، فقال: قُتِل مع عليّ بن أبي طالب ﵁ في الرَّجّالة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5727 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شریک کہتے ہیں: ان کی مجلس میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے کہا: سیدنا اویس رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5832]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5833
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثني أبو عُبيدة الحدّاد، حدثنا أبو مَكِين، قال: رأيتُ امرأةً في مسجد أُوَيس القَرَني، قالت: كان يجتمعُ هو وأصحابٌ له في مسجدِهم هذا؛ يُصلُّون ويقرؤون في مصاحِفهم، فآتي غَداءَهم وعَشاءَهم هاهنا حتى يُصلُّوا الصلَوات، قالت: وكان ذلك دأْبَهم ما شَهِدوا، حتى غَزَوا فاستُشهِد أويسٌ وجماعةٌ من أصحابِه في الرّجّالة بين يَدَي عليّ بن أبي طالب (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5728 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابومکین کہتے ہیں: میں نے ایک خاتون کو سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی مسجد میں دیکھا وہ کہہ رہی تھی: سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اس مسجد میں جمع ہو کر نماز ادا کرتے، قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور میں ان کے لئے صبح اور شام کا کھانا لا کر یہاں رکھا کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: یہ ان کا طریقہ تھا، یہ لوگ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5833]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں