🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

602. قِصَّةُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ بِيَدِ مُعَاذِ بْنِ عَمْرٍو
سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ابو جہل کے قتل کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5911
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن شاذان وأحمد بن سَلَمة، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هُريرة، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"نِعمَ الرجلُ مُعاذُ بن عمرو بن الجَمُوح" (3) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5795 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معاذ بن عمرو بن جموح کتنا اچھا شخص ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5911]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5912
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي. وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل - واللفظُ له - حدثنا أبو المُثنّى العَنْبري؛ قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يوسف بن الماجِشُون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن جده، قال: بينما أنا واقفٌ في الصفّ يومَ بدر، فنظرتُ عن يميني وشِمالي، فإذا أنا بين غُلامين من الأنصار حديثةٌ أسنانُهما، تَمنَّيتُ أن أكونَ بين أَضْلَعَ منهما، فغَمَزَني أحدهما، فقال: يا عَمّاهُ، هل تَعرفُ أبا جَهْل؟ قلت: نعم، وما حاجتُك إليه يا ابن أخي؟ قال: أُخبرتُ أنه يسُبُّ رسولَ الله ﷺ، والذي نفسي بيدِه، لئن رأيتُه لا يُفارِقُ سَوادِي سَوادَه حتى يموت الأعجلُ منا، وتعجبَّتُ لذلك، فغَمَزَنِي الآخرُ فقال لي مثلَها، فلم أنشَبْ أن نظرتُ إلى أبي جهل يَدُور في الناس، فقلتُ لهما: ألا إِنَّ هذا صاحبُكما الذي تَسألانِ عنه، فابتدَراهُ بسَيفَيهما فضرباه حتى قَتَلاهُ، ثم انصرفا إلى رسول الله ﷺ، فأخبراه، فقال:"أَيُّكما قَتلَه؟" فقال كل واحد منهما: أنا قتلتُه، فقال:"هل مَسحتُما سَيفَيكُما؟" قالا: لا، فنظر في السَّيفَين، فقال:"كِلاكُما قتلَه"، فقَضَى بسَلَبِه لمعاذ بن عمرو بن الجَمُوح، وكانا معاذَ بنَ عَفْراء ومعاذَ بن عَمرو بن الجموح (1) . فأما أخُوه خَلّاد بن عَمرو بن الجَمُوح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں مجاہدین کی صف میں موجود تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو میری نظر دو کمسن انصاری لڑکوں پر پڑی، میرا دل چاہا کہ میں ان کو گود میں اٹھا کر پیار کروں، اتنے میں ان میں سے ایک نے آنکھ کا اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا: چچا جی، کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں جانتا ہوں، لیکن بیٹا تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، میں جب تک اس کو مار نہ ڈالوں تب تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، پھر دوسرے نے بھی مجھ سے اسی طرح ابوجہل کے بارے میں پوچھا، میں نے فوراً ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابوجہل لوگوں میں گھومتا ہوا دکھائی دیا، میں نے ان سے کہا: بچو! وہ دیکھو، جس شخص کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے، وہ تمہارا مطلوبہ شخص وہ رہا۔ ان دونوں لڑکوں نے اپنی تلواریں نیام سے نکالیں اور بجلی کی سی تیزی سے اس پر جھپٹ پڑے، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کو واصل جہنم کر دیا۔ اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کے قتل کی خوشخبری سنائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس کو قتل کیا؟ دونوں نے کہا: اس کو میں نے قتل کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے ابھی تک اپنی تلواریں دھوئی تو نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلواروں کا معائنہ کرنے کے بعد فرمایا: تم دونوں نے ہی اس کو قتل کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا ساز و سامان معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ دوسرے کا نام سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5912]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں