🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

624. ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ عَاشِرِ الْعَشَرَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ (عشرۂ مبشرہ میں دسویں صحابی) کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5956
ما حدَّثَناه أحمدُ بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي وعبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، قالا: حدثنا رَوْح بن عُبادة القَيْسي، حدثنا عَوف بن أبي جَمِيلة، عن ميمون أبي عبد الله، عن عبد الله بن بُريدةَ [عن أبيه بُريدةَ] (2) الأسلَمِيّ: أنَّ رسول الله ﷺ لما نزل بحَضْرة أهل خيبر، قال رسول الله ﷺ:"لأُعْطِينّ اللواءَ غدًا رجلًا يُحِبُّ الله ورسُولَه ويُحِبُّه اللهُ ورسولُه"، فلما كانَ من الغَدِ تَطاوَلَ له جماعةٌ مِن أصحابه، فدَعَا عليًّا وهو أرمَدُ، فتَفَلَ في عَينَيهِ وأعطَاهُ اللِّواءَ، ونَهَضَ معه الناسُ، فَلَقُوا أهلَ خيبر، فإذا مَرحَبٌ بين أيديهم يَرتَجِزُ، وإذا هو يقول: قد عَلِمَتْ خَيبرُ أني مَرحَبُ … شاكُ (3) السلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إذا السيوفُ أقبَلَتْ تَلهَبُ … أطعَنُ أحيانًا وحِينًا أضربُ فاختلفَ هو وعليٌّ بضَرْبتَين، فضربه عليٌّ على رأسِه حتى عَضَّ السّيفُ بأضراسِه، وسَمِعَ أهلُ العَسكَر صوتَ ضربتِه، فقتَلَه، فما تتامَّ آخرُ الناسِ حتى فُتِح لأوَّلِهم (1) . هذا باب كبير قد خَرّجتُه في"الأبواب". ذكرُ مناقب سعيد بن زيد بن عَمْرو بن نُفَيل، عاشِرِ العَشَرة ﵁ -
سیدنا میمون ابوعبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں اپنے پڑاؤ کے دوران فرمایا تھا کہ میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اگلے دن بہت سارے صحابہ کرام اس امتیاز کو حاصل کرنے کے طلبگار تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن مبارک لگایا، ان کو جھنڈا عطا فرمایا، اور لوگوں کو ان کے ہمراہ روانہ فرمایا۔ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں خیبر پر حملہ کیا، ان کی مڈبھیڑ مرحب سے ہو گئی، وہ یہ رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ * خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، میں جنگی ہتھیاروں سے لیس، جنگ کے داؤ پیچ کو جاننے والا سپہ سالار ہوں۔ * جب تلواروں سے تلواریں ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں تو میں کبھی نیزے سے حملہ کرتا ہوں اور کبھی تلوار کا وار کرتا ہوں۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مرحب کے درمیان گھمسان کا رن پڑا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر ایک کاری ضرب لگائی، جو اس کی زرہ، خود اور سر کو چیرتی ہوئی اس کی داڑھوں کو کاٹ کر اس کے جبڑے تک پہنچ گئی، پورے لشکر نے اس حملے کی آواز سنی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو واصل جہنم کر دیا۔ ابھی پورا لشکر خیبر میں نہیں پہنچا تھا کہ خیبر فتح ہو گیا۔ اس موضوع پر بہت ساری احادیث ہیں، ان کو میں نے ان کے متعلقہ ابواب میں درج کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5956]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5957
أخبرني إسماعيلُ بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزَامي، حدثني محمد بن عُمر الواقِدي، حدثني عبد الملك ابن زيد بن عبد الله بن سعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل بن عبد العُزَّى بن رِيَاح بن رَزَاح بن عَدِيّ بن كَعْب بن لُؤي: أنَّ عمرو بن نُفَيل والخَطّاب بن نُفَيل والد عُمر أخوانِ لأبٍ.
محمد بن عمر واقدی نے (ان کے صاحبزادے سیدنا عبدالملک کے واسطے سے ایک) روایت بیان کی ہے (اس روایت سے سیدنا سعید کا نسب یوں سامنے آتا ہے) سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن رزاخ بن عدی بن کعب بن لؤی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن نفیل اور عمر کے والد سیدنا خطاب بن نفیل دونوں باپ کی طرف سے بھائی ہیں۔ (یعنی ان دونوں کے والد ایک ہیں اور مائیں الگ الگ ہیں) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5957]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5958
أخبرني أبو جعفر البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسوَد، عن عُروة، قال: سعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل قَدِمَ من الشام بعدما رَجَعَ رسولُ الله ﷺ من بدر، فكلَّم رسولَ الله ﷺ، فضَرَبَ له بسَهْمِه، قال: وأَجْرِي يا رسول الله؟ قال:"وأجْرُك" (1) .
سیدنا عروہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ بدر سے واپس آنے کے بعد سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل شام سے آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا ثواب ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ثواب بھی عطا فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5958]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5959
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونُس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، في تسمية من شَهِدَ بدرًا من المسلمين مع رسولِ الله ﷺ من بني عَدِيّ بن كَعْب بن فِهر بن مالك، قال: وسعيدُ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل بن عبد العُزَى بن رِيَاح بن قُرْط بن رَزَاح بن عَدِيّ بن كَعْب بن لُؤي بن غالب بن فِهْر بن مالك، وأمُّه فاطمةُ بنت بَعْجَةَ من خُزَاعة، قَدِم من الشام بعد قُدوم رسولِ الله ﷺ من بدر، فضَرَبَ له رسول الله ﷺ بسَهمِه، قال: وأجْرِي يا رسول الله؟ قال:"وأجْرُك" (2) .
ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ بنی عدی بن کعب بن فہر بن مالک کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح برقرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بھی تھے۔ ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت بعجہ ہیں ان کا تعلق قبیلہ خزاعہ کے ساتھ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے واپس آئے تو یہ ملک شام سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے غزوہ بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطا کیا تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حصہ کا ثواب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ثواب بھی عطا فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5959]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں