المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
658. وَصْفُ الْمَوْتِ فِي حَالَةِ النَّزْعِ
جان کنی کے وقت موت کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 6027
حَدَّثَنَا عبد الصمد بن علي، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص القاضي، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مَريم، قال: أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن عَمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدّه: أنَّ عمر بن الخطاب رأى عَمرو بن العاص وقد سَوّدَ شَيْبَه، فهو مثلُ جَناحِ الغُرابِ، فقال: ما هذا يا أبا عبد الله؟ فقال: يا أميرَ المؤمنين، أُحِبُّ أن تُرى فِيَّ بَقيَّةٌ، فلم يَنهَهُ عمرُ عن ذلك، ولم يَعِبْه عليه، وتُوفي عمرو بن العاص وسِنُّه نحوٌ من مئة سنة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے سفید بالوں کو سیاہ خضاب لگایا ہوا ہے (اس خضاب کی وجہ سے ان کے بال اتنے سیاہ تھے یوں لگتا تھا) گویا کہ کوے کا پر ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوعبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: امیرالمومنین! مجھے یہ پسند ہے کہ تم مجھے نوجوان سمجھو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو منع نہیں کیا اور نہ اس وجہ سے ان پر کوئی عیب لگایا۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تقریبا سو سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6027]
حدیث نمبر: 6028
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن هشام بن الكَلْبي، عن عَوَانة بن الحَكَم، قال: كان عمرو بن العاص يقول: عجبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقلُه معه كيف لا يَصِفُه؟ فلما نَزَلَ به الموتُ قال له ابنه عبد الله بن عَمرو: يا أبَةِ، إنك كنتَ تقول: عَجَبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقله معه كيف لا يَصِفُه؟! فصِفْ لنا الموتَ وعقْلُك معك، فقال: يا بُنيّ، الموتُ أجَلُّ من أن يُوصَف، ولكني سأصِفُ لك منه شيئًا: أجِدُني كأَنَّ على عنقي جِبَالَ رَضْوَى، وأجِدُني كأَنَّ في جَوفي شَوكَ السُّلّاء، وأجِدُني كأنَّ نَفْسي تَخرُج مِن ثَقْبِ إِبْرَةٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عوانہ بن حکم فرماتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: تعجب ہے اس شخص پر جس پر موت کا عالم طاری ہو، اس کی عقل بھی سلامت ہو اور وہ موت کی کیفیات بیان نہ کر سکے۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے بیٹے عبداللہ نے ان سے کہا: ابا جان، آپ کی عقل سلامت ہے، آپ ہمیں موت کی کیفیات سے آگاہ کیجئے۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹے! موت کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی، البتہ میں اس وقت جو محسوس کر رہا ہوں وہ تمہیں بیان کر دیتا ہوں۔ مجھے یوں لگ رہا ہے رضوی پہاڑ میری گردن پر رکھ دیا گیا ہے، اور میرے جسم میں لوہے کی خاردار تار داخل کر دی گئی ہے، اور یوں لگ رہا ہے جیسے میری جان سوئی کے ناکے میں سے نکالی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6028]
حدیث نمبر: 6029
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم، حَدَّثَنَا الليث وابن لَهِيعة، قالا: أخبرنا ابن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس التُّجِيبي، عن زُهير بن قيس البَلَوِيَّ، عن علقمة بن رِمْثةَ البَلَويّ، أنه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرَو بن العاص إلى البَحرَين، ثم خرج رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة وخَرجْنا معه، فنَعَسَ رسولُ الله ﷺ ثم استيقظ، فقال:"رَحِمَ الله عمرًا" قال: فتذاكَرْنا كلَّ إنسانٍ اسمُه عمرو، فنَعَس ثانيًا، فاستيقظ فقال:"رَحِمَ الله عمرًا"، ثم نَعَس الثالثةَ، ثم استيقظ فقال:"رَحِمَ الله عمرًا" فقلنا: من عَمرٌو يا رسول الله؟ قال:"عَمرُو بن العاص" قالوا: ما بالُه؟ قال:"ذَكَرتُه، إني كنتُ إذا نَدَبتُ الناسَ إلى الصَّدقة، جاء بالصَّدقة فأجْزَلَ، فأقولُ له: مِن أين لكَ هذا؟ فيقول: مِن عندِ الله، وصَدَقَ عَمْرٌو؛ إنَّ لعَمرٍو خيرًا كثيرًا". قال زُهير: فلما كانت الفِتنةُ قلتُ: أَتَّبِعُ هذا الذي قال رسولُ الله ﷺ [فيه] ما قال، فلم أُفارِقُه (1) (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5916 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5916 - صحيح
علقمہ بن رمثہ بلوی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی جانب بھیجا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم میں روانہ ہوئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی، پھر آپ اونگھ سے بیدار ہو گئے پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے، راوی کہتے ہیں: ہم نے ہر شخص کو یاد کیا جس کا نام عمرو تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پھر اونگھ آئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھ سے بیدار ہوئے تو پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔ تیسری مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی، اور جب بیدار ہوئے یہی فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون عمرو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن العاص۔ صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یاد آ رہا ہے کہ میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلایا کرتا تھا تو عمرو بن العاص بہت دل کھول کر صدقہ کیا کرتا تھا، میں اس سے پوچھتا کہ عمرو یہ سب تمہارے پاس کہاں سے آیا تو وہ کہتا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ واقعی عمرو سچ کہتا تھا، بے شک عمرو کے لئے ” خیر کثیر “ ہے۔ سیدنا زہیر فرماتے ہیں: جب فتنہ کا وقت آیا تو میں نے کہا: میں اس شخص کی پیروی کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عمل کو پسند کیا ہے، میں اس سے جدا نہیں ہوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6029]