🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

685. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ رَاهِبُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَذِكْرُ مَقْتَلِهِ
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان، جو اصحابِ محمد ﷺ کے عابد و زاہد تھے، اور ان کی شہادت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6084
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد الصَّمد الدَّمشقي، حَدَّثَنَا أبو النَّضر إسحاق بن إبراهيم بن يزيد القُرَشي، حَدَّثَنَا خالد بن يزيد، حدثني هشام بن الغازِ (1) ، حدثني عُبادة بن نُسَي - وكان عاملًا لعبد الملك بن مروان على الأردنْ - قال: مررتُ بناسٍ قد اجتمعوا على شيخٍ وهو يُحدِّث، ففَرَجوا عني، فإذا شيخ يحدِّث يقول: أيها الناس، إنَّ ثلاثًا عندكم أمانةٌ، من حافَظَ عليهنَّ فهو مؤمن، ومن لم يحافظ عليهنَّ فليس بمؤمن: إن قال: صلَّيتُ ولم يُصَلِّ، وصُمتُ ولم يَصُم، وأغتَسِلُ من الجَنَابة ولم يَعْتَسِل، قال: فقال مَن يَلِيني: مَن هذا؟ قال: عقبةُ بنُ عامر الجُهَني صاحبُ رسول الله ﷺ (2) . ذكرُ مناقب حُجْر بن عَدِيٍّ ﵁ وهو راهب أصحاب محمد ﷺ، وذكرُ مَقتلِه
سیدنا عبادہ بن نسی عبدالملک بن مروان کی جانب سے اردن کے گورنر تھے، آپ فرماتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ لوگ ایک بزرگ کے قریب جمع تھے اور وہ بزرگ ان کو احادیث سنا رہے تھے۔ جب میں ان کے قریب پہنچا تو لوگوں نے میرے لئے جگہ بنا دی، میں نے سنا وہ شیخ کہہ رہے تھے: تین چیزیں تمہارے پاس امانت ہیں، جو ان کی حفاظت کرے گا، وہ مومن ہے اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا، وہ مومن نہیں ہے۔ * وہ شخص جس نے نماز نہ پڑھی ہو اور وہ کہے کہ میں نے نماز پڑھ لی۔ * وہ شخص جس نے روزہ نہ رکھا ہو اور کہے کہ میں نے روزہ رکھا ہے۔ * وہ شخص جس نے جنابت کا غسل نہ کیا ہو اور کہے کہ میں نے غسل کر لیا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: میرے دائیں جانب سے کسی نے پوچھا: یہ کون بزرگ ہیں؟ تو دوسرے شخص نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6084]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6085
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا عارمٌ أبو النُّعمان محمد بن الفَضْل (3) ، حَدَّثَنَا حماد بن زيد، عن محمد بن الزُّبير الحَنْظلي، حدثني فِيلٌ (4) مولى زياد قال: أرسَلَني زيادٌ إلى حُجْر بن عَدِيّ - ويقال ابن الأَدْبَر - فأبى أن يأتيَه، ثم أعادني الثانية، فأبى أن يأتيَه، قال: فأرسَلَ إليه: إنِّي أُحذِّرُك أن تَركَبَ أعجازَ أُمورٍ هَلَكَ مَن رَكِبَ صُدورها (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5972 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زیاد کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے زیاد نے سیدنا حجر بن عدی کی جانب ان کو بلانے کے لئے بھیجا، ان کو ابن اوبر کہا جاتا تھا۔ سیدنا حجر نے آنے سے انکار کر دیا۔ زیاد نے دوسری مرتبہ بھیجا لیکن انہوں نے اس بار بھی آنے سے منع کر دیا۔ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہہ کر بھیجا کہ تم ایسے امور کی دم کے پیچھے پڑنے سے باز آ جاؤ جن امور کے سینوں پر سوار ہونے والے بھی ہلاک ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6085]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6086
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حَدَّثَنَا الهيثم بن خَلَف الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا يحيى بن آدم، عن أبي بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن زياد بن عِلاقَة قال: رأيتُ حُجْر بن الأدْبَر حين أَخرَجَ به زيادٌ إلى معاوية، ورِجلاه من جانبٍ وهو على بعير (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5973 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زیاد بن علاثہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا حجر بن ادبر کو دیکھا، جب زیاد نے ان کو سیدنا معاویہ کی جانب بھیجا۔ (ان کی کیفیت یہ تھی کہ) ان کو اونٹ کے ساتھ ایک جانب باندھا گیا تھا اور ان کے پاؤں ایک جانب لٹک رہے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6086]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6087
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبَيريُّ، قال: حُجْر بن عَدِيٍّ الكِنْديُّ يُكْنَى أبا عبد الرحمن، كان قد وَفَدَ إلى النَّبِيّ ﷺ، وشهد القادسية، وشهد الجَمَل وصِفِّين مع عليٍّ ﵁، قتله معاوية بن أبي سفيان بمَرْج عَذْراء، وكان له ابنان: عبد الله وعبد الرحمن، قَتَلهما مصعب بن الزُّبير صبرًا، وقُتِل حُجْرٌ سنةَ ثلاثٍ وخمسين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5974 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں حجر بن عدی کندی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے تھے، جنگ قادسیہ، جنگ جمل اور صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ معاویہ بن ابوسفیان نے ان کو مقام مرج عذراء پر شہید کیا، ان کے دو بیٹے تھے، عبداللہ اور عبدالرحمن۔ ان دونوں کو مصعب بن عمیر نے باندھ کر شہید کیا تھا۔ سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ 53 ہجری میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6087]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6088
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا معاذ بن المُثنّى بن معاذ بن معاذ العَنْبري، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبي، عن ابن عَوْن، عن نافعٍ قال: لما كان ليالي بَعْثِ حُجرٍ إلى معاوية، جعل الناس يتحيَّرون ويقولون ما فعل حُجْرٌ؟! فأتى خبرُه ابنَ عمر وهو مُحْتَبي في السُّوق، فأطلق حَبْوَتَه ووَثَبَ وانطَلَقَ، فجعلتُ أَسْمَعُ نَحِيبَه وهو مُوَلٍّ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5975 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نافع فرماتے ہیں: جب سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا جا رہا تھا، لوگ بہت حیران تھے اور پوچھتے تھے کہ حجر کا قصور کیا ہے؟ یہ خبر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچی، وہ اس وقت بازار میں کسی جگہ روپوش تھے، آپ نے روپوشی ختم کی اور لوگوں کے درمیان آ گئے۔ جب وہ واپس جا رہے تھے تو میں ان کی پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آوازیں سن رہا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6088]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں