المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
687. وَصِيَّةُ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ عِنْدَ قَتْلِهِ
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وصیت جب انہیں قتل کیا گیا
حدیث نمبر: 6091
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن محمد اليَزيدي، حَدَّثَنَا سليمان بن أبي شَيخ، حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو مِخْنَف: أنَّ هُدْبة بن فيّاض الأعور أُمِرَ بقتل حُجْر بن عَدي، فمشى إليه بالسيف فأُرعِدَت فَرائصُه، فقال: يا حُجْرُ، أليس زعمتَ أنك لا تَجزَعُ من الموت؟ فإنا نَدَعُك (1) ، فقال: ما لي لا أَجزَعُ، وأنا أَرى قبرًا محفورًا، وكَفَنًا منشورًا، وسيفًا مشهورًا، إنَّني والله لن أقولَ ما يُسخِطُ الرَّب. قال: فقتله، وذلك في شعبان سنة إحدى وخمسين (2) (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابومخنف فرماتے ہیں: ہدیہ بن فیاض اعور کو حکم دیا گیا کہ حجر بن عدی کو قتل کر دو، وہ اپنی تلوار لے کر ان کی جانب بڑھا، تو سیدنا حجر پر کپکپی طاری ہو گئی، ہدیہ بن فیاض نے کہا: کیا تم یہ دعویٰ نہیں کیا کرتے تھے کہ تم موت سے نہیں گھبراتے ہو؟ تاکہ ہم تجھے چھوڑ دیں۔ سیدنا حجر نے کہا: میں کیوں نہ گھبراؤں کہ مجھے کھودی ہوئی قبر نظر آ رہی ہے، مجھے بکھرا ہوا کفن دکھائی دے رہا ہے، اور تلوار سونتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور خدا کی قسم! میں وہ بات ہرگز نہیں کہہ سکتا جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو ناراض کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ہدیہ بن فیاض نے ان کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ شعبان کے مہینے میں 51 ہجری کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6091]
حدیث نمبر: 6092
حَدَّثَنَا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي، حَدَّثَنَا موسى بن داود الضَّبِّي، حَدَّثَنَا قيس بن لربيع، عن أشعث، عن محمد بن سِيرِين: قال حُجْر بن عَدِي: لا تَغْسِلوا عني دمًا، ولا تُطلِقوا عنِّي قيدًا، وادفنوني في ثيابي، فإنّا نلتقي غدًا بالجادَّة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5979 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5979 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرا خون نہ دھونا، اور نہ ہی میری بیڑیاں اتارنا اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کرنا، کیونکہ کل ہماری ملاقات اپنے نظرئیے پر قائم رہتے ہوئے ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6092]
حدیث نمبر: 6093
حَدَّثَنَا أبو علي مَخْلَد بن جعفر، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن محمد الكارِزِيّ، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا حَرْمَلة بن قيس النَّخَعي، حدثني أبو زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، قال: ما وَفَدَ جَرِيرٌ قطُّ إِلَّا وفدتُ معه، وما دَخَلَ على معاوية إلَّا دخلت معه، وما دخلنا معه عليه إِلَّا ذَكَرَ قتلَ حُجْر بن عَديّ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں: جریر جب بھی سفر پر گئے، میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ہوں۔ اور وہ جب بھی معاویہ کے پاس گئے، میں ہمیشہ ان کے ہمراہ رہا ہوں۔ اور ہم جب بھی سیدنا معاویہ کے پاس گئے، سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کا تذکرہ ضرور ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6093]
حدیث نمبر: 6094
حدثني علي بن عيسى الحِيريّ، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبَّاني، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم البَغَوي، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن هشام بن حسّان، عن ابن سِيرِين: أنَّ زيادًا أطال الْخِطبة، فقال حُجْر بن عَدِيّ: الصلاةَ، فمضى في خطبته، فقال له: الصلاةَ، وضَرَبَ بيده إلى الحصى، وضَرَبَ الناسُ بأيديهم إلى الحصى، فنزل فصلَّى، ثم كَتَبَ فيه إلى معاوية، فكَتَبَ معاويةُ: أن سَرِّحْ به إليَّ، فسُرَّح إليه، فلمّا قدم عليه قال: السلامُ عليكَ يا أمير المؤمنين، قال: وأَميرُ المؤمنين أنا؟! إنِّي لا أُقيلُك ولا أستقيلُك، فأَمَرَ بقتله، فلما انطلقوا به طلب إلى الذين انطلقوا به أن يَأْذَنوا له فيصليَ ركعتين، فأذَنِوا له فصلَّى ركعتين، ثم قال: لا تُطلِقُوا عنِّي حديدًا، ولا تغسلوا لي دمًا، وادْفِنوني في ثيابي، فإني مُخاصِم. قال: فقُتِل (2) . قال هشام: كان محمد بن سِيرِين إذا سُئل عن الشهيد، ذَكَرَ حديثَ حُجْر.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: زیاد نے خطبہ لمبا کر دیا تو سیدنا حجر بن عدی نے کہا: نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ لیکن زیاد نے اپنا خطبہ جاری رکھا، سیدنا حجر نے دوبارہ کہا کہ نماز کا وقت ہو چکا ہے اور ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر مارا، ساتھ ہی دوسرے لوگوں نے بھی ہاتھ زمین پر مارے۔ زیاد منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھا دی، اور سیدنا حجر کے بارے میں سیدنا معاویہ کی جانب خط لکھا، سیدنا معاویہ نے جوابی مکتوب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو، زیاد نے ان کو سیدنا معاویہ کے پاس بھیج دیا، جب سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ کے پاس پہنچے، تو کہا: السلام علیک یا امیرالمومنین۔ ساتھ ہی فرمایا: اور امیرالمومنین تو میں خود ہوں۔ میں نہ تجھ سے کوئی بات کروں گا اور نہ تیری سنوں گا، سیدنا معاویہ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب ان کو قتل کے لئے لے کر جا رہے تھے تو انہوں نے نماز پڑھنے کے لئے کچھ دیر مہلت کا مطالبہ کیا، ان کو مہلت دی گئی، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: میری بیڑیاں مجھ سے نہ اتارنا اور نہ ہی میرے جسم سے میرا خون دھونا، مجھے میرے انہی کپڑوں میں کفن دینا، کیونکہ (کل قیامت کے دن میرا تمہارے ساتھ) جھگڑا ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ان کو قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں: محمد بن سیرین سے جب بھی شہید کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ سیدنا حجر رضی اللہ عنہ والا واقعہ سنایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6094]