المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
699. زِيَارَةُ عَائِشَةَ قَبْرَ أَخِيهَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے بھائی عبد الرحمن کی قبر کی زیارت کرنا
حدیث نمبر: 6126
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنَيسابور، حَدَّثَنَا أبو عُلاثة، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكةَ قال: تُوفِّي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحُبْشي من مكة على بَرِيدٍ، فلما حَجَّت عائشةُ ﵂ أَتتْ قبرَه فبَكَتْ وقالت: وكُنّا كنَدْمانَي جَذِيمةَ حِقْبةً … من الدَّهرِ حتَّى قِيلَ: لن يَتَصدَّعا فلمَّا تفرَّقْنا كأنِّي ومالكًا … لِطُولِ اجتماعٍ لم نَبِتْ ليلةً معا ثم رَدَّتْ (3) إلى مكة، وقالت: أَمَ واللهِ لو شَهِدتُك، لدفنتُك حيثُ مُتَّ (4) .
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات مکہ سے ایک برید (تقریباً 12 میل) کے فاصلے پر مقامِ حبشی میں ہوئی، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کیا تو وہ ان کی قبر پر آئیں، بہت روئیں اور (حسرت بھرے لہجے میں) یہ اشعار پڑھے: ”ہم ایک طویل عرصے تک جذیمہ کے ان دو ساتھیوں کی طرح رفیق رہے جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ کبھی جدا نہ ہوں گے، پھر جب ہم جدا ہوئے تو (موت کے اس صدمے کے بعد) مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اور مالک (میرا بھائی) طویل رفاقت کے باوجود کبھی ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے ہوں۔“ پھر وہ مکہ واپس تشریف لائیں اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو تمہیں وہیں دفن کرتی جہاں تمہاری روح نکلی تھی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6126]
تخریج الحدیث: «لا بأس برجاله، أبو علاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني ثم المصري، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.» [ترقيم الرساله 6126] [ترقيم الشركة 6068]
الحكم على الحديث: لا بأس برجاله
حدیث نمبر: 6127
أخبرنا أبو العبّاس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغَزّال، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: ما تُعُلِّقَ على عبد الرحمن بن أبي بكر بكِذْبةٍ في الإسلام (1) .
سعید بن مسیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق اسلام لانے کے بعد کبھی کسی کذب بیانی کا کوئی شائبہ تک نہیں پایا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6127]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6127] [ترقيم الشركة 6069]