🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

702. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -
سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6130
أخبرني عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الخُزَاعي بمكة، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن الوليد الأزْرَقي، حَدَّثَنَا داود بن عبد الرحمن العطّار، حدثني عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن يوسف بن ماهَك، عن حفصة بنت عبد الرحمن بن أبي بكر، عن أبيها: أنَّ النَّبِيّ الله قال لعبد الرحمن بن أبي بكر:"أَرْدِفْ أُختَك عائشةَ فَأَعمِرُها من التنعيم، فإذا هَبَطَتَ الأَكَمَةَ فَمُرْها فلتُحرِمْ، فإنها عُمرةٌ مُتَقَبَّلة" (1) . ذكرُ مناقب عبد الله بن أبي بكر الصِّديق ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6017 - إسناده قوي
حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: اپنی بہن عائشہ کو اپنے ساتھ بٹھا لو اور تنعیم سے اس کو عمرہ کراؤ، اور جب پہاڑی سے نیچے اترو تو اس کو کہو کہ احرام باندھ لیں کیونکہ یہ استقبالیہ عمرہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6130]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6131
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة قال: وقُتِل يوم الطائف من المسلمين من بني تَيْم بن مُرَّة عبدُ الله بن أبي بكر، رُمِيَ بسهم، فمات بعد ذلك بخمسين يومًا.
سیدنا عروہ فرماتے ہیں: جنگ طائف میں مسلمانوں میں بنی تمیم بن مرہ کی جانب سے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما شہید ہوئے، ان کو ایک تیر لگا تھا، اس کے پچاس دن بعد آپ شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6131]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6132
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: كان الذي يختلفُ بالطعام إلى رسول الله ﷺ وأبي بكرٍ في الغار عبدُ الله بنُ أبي بكر (1) .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں تھے تو سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان تک اشیائے خورد و نوش پہنچاتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6132]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6133
أخبرني محمد بن الحسين الشَّيباني، حَدَّثَنَا أحمد بن حماد بن زُغْبة، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير، قال: مات عبدُ الله بن أبي بكر في السنة التي ماتت فيها فاطمةُ ﵂، بعد وفاةِ رسولِ الله ﷺ (2) .
سعید بن عقبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جس سال سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، اسی سال سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6133]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6134
أخبرني أبو عبد الله محمد بن العبّاس الشهيد ﵀، حَدَّثَنَا أبو العبّاس الدَّغُولي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الكريم، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدي، حَدَّثَنَا أسامة بن زيد، عن القاسم بن محمدٍ قال: رُمي عبدُ الله بن أبي بكر بسَهمٍ يومَ الطائف، فانتَقضَتْ به بعدَ وفاة رسول الله ﷺ بأربعين ليلةً فمات، فدخل أبو بكر على عائشة فقال: أيْ بُنيّةُ، واللهِ لكأنما أُخذَ بأُذُن شاةٍ فأُخرِجتْ من دارنا، فقالت: الحمد لله الذي رَبَط على قلبك، وعَزَمَ لك على رُشْدِك. فخرج ثم دخل فقال: أي بُنيَّة، أتخافون أن تكونوا دَفنتُم عبدَ الله وهو حيّ؟ فقالت: إنا الله وإنا إليه راجعون يا أَبَهْ، فقال: أَستعيذُ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم؛ أيْ بُنيَّة إنه ليس أحدٌ إِلَّا وله لَمَّتانِ: لَمَّة من الملَك، ولَمَّة من الشيطان، قال: فقَدِمَ عليه وفدُ ثقيف، ولم يَزَلْ ذلك السهمُ عنده، فأُخرِجَ إليهم فقال: هل يعرفُ هذا السَّهمَ منكم أحد؟ فقال سعيد بن عبيد أخو بني العَجْلان: هذا سهمٌ أنا بَرَيتُه ورِشْتُه وعَقَبْتُه، وأنا رميتُ به (1) ، فقال أبو بكر: فإنَّ هذا السهمَ الذي قَتَلَ عبدَ الله بن أبي بكر، فالحمد لله الذي أكرمَه بيدِك ولم يُهِنْكَ بيده، فإنه واسعُ الحِمَى (2) .
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ طائف کے محاصرے کے موقع پر سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو تیر لگا تھا، اس کے چالیس دن بعد اس تیر کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہے۔ عبداللہ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: اے میری پیاری بیٹی! خدا کی قسم، یوں لگتا ہے جیسے کسی بکری کو کان سے پکڑ کر ہمارے گھر سے نکال دیا گیا ہو، ام المومنین نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کے دل کو مضبوطی عطا فرمائی ہے اور آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھا ہے، یہ کہہ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر چلے گئے، تھوری دیر بعد واپس آئے اور فرمایا: کیا تمہیں یہ خدشہ ہے کہ عبداللہ کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے؟ ام المومنین نے کہا: ابا جی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: استعیذ باللہ السمیع العلیم میں الشیطن الرجیم (میں سننے والے اور علم رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی پنا مانگتا ہوں مردود شیطان سے) اے میری پیاری بیٹی ہر شخص کو دو طرح کے خیالات آتے ہیں۔ کچھ خیالات فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ شیطان کی طرف سے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ثقیف کا وفد آیا، ابھی تک وہ تیر ہمارے پاس سنبھال کر رکھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ تیر نکالا اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس تیر کو پہچانتا ہے؟ بنی عجلان کے بھائی سیدنا سعد بن عبید نے کہا: یہ تیر تو میرے ہاتھ کا تیار کیا ہوا ہے، اور یہ پھینکا بھی میں نے ہی تھا۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ شکر ہے اس ذات کا جس نے تمہارے ہاتھ سے اس کو عزت بخشی اور اس کے ہاتھ سے تمہیں رسوا نہیں کیا۔ بے شک اللہ رب العزت بہت برکت والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6134]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں