🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

716. إِسْلَامُ وَلَدِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ كُلِّهِمْ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد کا اسلام قبول کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6156
أخبرنا الحسين بن علي التَّميمي، حَدَّثَنَا محمد بن سليمان بن فارس، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل، حدثني إبراهيم بن المنذر قال: مات أبو خالد حَكيمُ بن حِزَام سنة ستين وهو ابن عشرين ومئة سنة (1) .
ابراہیم بن منذر حزامی فرماتے ہیں: ابوخالد حکیم بن حزام کا انتقال 60 ہجری کو ہوا، ان کی عمر 120 سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6156]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6157
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني المنذر بن عبد الله، عن موسى بن عُقبة، عن أبي حَبيبة مولى الزُّبير قال: سمعتُ حَكيم بنَ حِزَام يقول: ولِدتُ قبل قُدوم أصحاب الفيل بثلاثَ عشرةَ سنةً، وأنا أَعقِلُ حين أراد عبد المطلب أن يَذبَحَ ابنهَ عبدَ الله، وذلك قبلَ مولد النَّبِيِّ ﷺ بخَمسِ سنين. قال ابن عمر (2) : وشهد حَكِيمُ بن حِزَام مع أبيه الفِجَارَ، وقُتل أبوه حزام بن خويلد في الفِجَار الأخير، وكان حكيمٌ يُكْنَى أبا خالد، وكان له من الولد عبدُ الله، وخالد، ويحيى، وهشام وأمهم زينب بنت العوّام بن خُوَيلِد بن عبد العُزَّى بن قُصَي، ويقال: بل أمُّ هشام بن حكيمٍ مُلَيكةُ بنت مالك بن سعد من بني الحارث بن فِهْر، وقد أدرك ولدُ حكيم بن حِزَام كلُّهم النَّبِيّ ﷺ، وأسلموا يوم الفتح، وصَحِبوا رسول الله ﷺ. وكان حكيمُ بن حِزَام، فيما ذُكِر قد بلغ عشرين ومئةَ سنة، ومرَّ به معاويةُ عامَ حَجَّ، فأرسل إليه بلَقُوح يشربُ من لبنها، وذلك بعد أن سأله: أيَّ الطعام تأكل؟ فقال: أمَا مَضْغٌ، فلا مَضْغَ فيَّ، فأرسل إليه باللَّقُوح، وأرسل إليه بصِلَةٍ، فأَبى أن يقبلَها، وقال: لم آخذ من أحدٍ بعد النَّبِيّ ﷺ شيئًا، ودعاني أبو بكرٍ وعمر إلى حقِّي فأبَيتُ عليهما أن آخذَه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6043 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اصحاب الفیل کے آنے سے 13 برس پہلے میری پیدائش ہوئی۔ میں ان دنوں سمجھدار تھا جب سیدنا عبدالمطلب نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ محمد بن عمر فرماتے ہیں: حکیم بن حزام اپنے والد کے ہمراہ فجار میں شریک ہوئے تھے، ان کے والد حزام بن خویلد دوسری جنگ فجار میں مارے گئے تھے۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوخالد تھی۔ ان کی اولاد امجاد یہ ہیں عبداللہ، خالد، یحیی، ہشام۔ ان کی والدہ زینب بنت عوام بن خویلد بن عبدالعزیٰ بن قصی ہیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ہشام بن حکیم کی والدہ ملیکہ بنت مالک بن سعد ہیں، ان کا تعلق بنی حارث بن فہر کے ساتھ تھا، حکیم بن حزام کے تمام بیٹوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں نام پایا۔ کہا جاتا ہے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی عمر 120 برس ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ حج کے موقع پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو ان سے پوچھا کہ آپ کھاتے کیا ہیں؟ سیدنا حکیم نے فرمایا: مجھ سے کوئی چیز چبائی نہیں جاتی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک دودھ والی اونٹنی ان کو تحفہ بھیجی تاکہ وہ اس کا دودھ پیئں۔ اور (مال کی بھری ہوئی) ایک ٹوکری بھی بھیجی، لیکن سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ان کا یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے کوئی چیز بھی قبول نہیں کروں گا۔ مجھے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے میرا حق دینے کے لئے بلوایا تھا، میں نے ان سے اپنا حق لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ابن عمر کہتے ہیں: سیدنا حکیم بن حزام سے پوچھا گیا: اے ابوخالد مال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کم بچے ہونا۔ اور محمد بن عمر فرماتے ہیں: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے، وہاں قیام کیا۔ ایک مکان بھی بنایا۔ اور 120 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں 54 ہجری کو انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6157]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6158
قال ابن عمر: وحدثنا ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، قال: قيل لحَكِيم بن حِزَام: ما المالُ يا أبا خالد؟ فقال: قِلَّةُ العيال (1) . قال (2) : وقَدِمَ حَكيمُ بن حِزَام المدينةَ، فنزلها، وبنَى بها دارًا، ومات بالمدينة سنة أربعٍ وخمسين وهو ابن مئة وعشرين سنة.
ابو الزناد بیان کرتے ہیں کہ: حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا گیا کہ "اے ابو خالد! مال (دولت) کیا ہے؟" تو انہوں نے جواب دیا: "عیال (اہل و عیال) کی قلت"۔ (راوی کہتے ہیں کہ:) حکیم بن حزام مدینہ منورہ تشریف لائے، وہیں سکونت اختیار کی اور ایک گھر تعمیر کیا۔ ان کی وفات سن 54 ہجری میں مدینہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر ایک سو بیس (120) برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6158]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6159
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله؛ فذكر نَسَبَ حَكيم بن حِزام وزاد فيه: وأُمُّه فاخِتةُ بنت زهير بن أسد بن عبد العُزّى، وكانت ولدت حكيمًا في الكعبة، وهي حاملٌ فضربها المَخَاضُ وهي في جوف الكعبة، فولدته فيها، فحُمِلَت في نِطْعٍ (3) ، وغُسِلَ ما كان تحتَها من الثياب عند حوض زمزم، ولم يُولَد قبلَه ولا بعدَه في الكعبة أحد (4) . وَهِمَ مصعبٌ في الحرف الأخير، فقد تواترت الأخبارُ أنَّ فاطمةَ بنتَ أَسَد وَلَدَتْ أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب كرَّم الله وجهه في جَوف الكعبة (1) .
مصعب بن عبداللہ نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کرنے کے بعد فرمایا ان کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ انہوں نے حکیم کو کعبہ میں جنم دیا۔ یہ حاملہ تھیں، کعبہ میں گئیں اور وہیں ان کو درد زہ شروع ہو گئی، اور حکیم کی پیدائش ہو گئی، چمڑے کے ایک قالین پر پیدائش کا عمل ہوا، اور ان کے نیچے جو کپڑے تھے وہ زمزم کے کنویں پر لا کر دھوئے گئے، نہ ان سے پہلے کوئی کعبہ میں پیدا ہوا نہ ان کے بعد۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: مصعب کو اس حدیث کے آخر میں وہم ہوا ہے۔ کیونکہ اس بارے میں روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت اسد نے امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے اندر جنم دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6159]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6160
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمام ﵀، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا علي بن مُسْهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ حكيم بن حزام لم يَقبَل من أبي بكر حتَّى قُبض، ولا من عمر حتَّى قُبض، ولا من عثمان، ولا من معاوية، حتَّى مات حكيم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6045 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اور نہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کسی سے کبھی کچھ قبول نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6160]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6161
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن حَكيم بن حِزامٍ قال: أَعتقتُ أربعينَ محرَّرًا في الجاهلية، فسألتُ النَّبِيَّ ﷺ: هل لي فيهنّ من أجرٍ؟ فقال:"أسلمتَ على ما سَبَقَ لك" (2) . صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6046 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حکیم بن حزام فرماتے ہیں: میں نے زمانہ جاہلیت میں 40 غلام آزاد کئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مجھے ان کا ثواب ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان اعمال پر ایمان لایا ہے جو گزر چکے ہیں۔ (یعنی تجھے ان کا بھی ثواب ملے گا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6161]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں