المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
844. شَرَابُ ابْنِ الزُّبَيْرِ دَمَ النَّبِيِّ بَعْدَ احْتِجَامِهِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے احتجام کے بعد خون پینا
حدیث نمبر: 6479
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسوَد بن شَيْبان، أخبرنا أبو نَوفَل بن أبي عَقرَب العُرَيجي قال: صَلَبَ الحجّاجُ بنُ يوسف عبدَ الله بنَ الزُّبير على عَقَبة المدينة ليُري (2) ذلك قريشًا، فلما أنْ نَفَروا جعلوا (3) يمرُّون ولا يَقِفون عليه، حتى مرَّ عبدُ الله بن عمر ابن الخطّاب فوقف عليه، فقال: السلامُ عليك أبا حُبَيب - قالها ثلاثَ مرات - لقد نهيتُك عن ذا- قالها ثلاث مرات - لقد كنتَ صوّامًا قوامًا، تَصِلُ الرَّحِمَ. قال: فبَلَغَ الحجَّاجَ موقفُ عبد الله بن عمر، فاستَنزَلَه فرَمَى به في قبور اليهود، وبَعَثَ إلى أسماءَ بنت أبي بكر أن تأتيَه، وقد ذهبَ بصرها، فأبَتْ، فأرسل إليها: لَتَجيئِنَّ أو لأ بعثنَّ إليكِ من يَسحبُكِ بقُرونِك، قالت: واللهِ لا آتيكَ حتى تبعثَ إِليَّ من يَسحَبُني بقُروني، فأتى رسولُه فأخبره، فقال: يا غلامُ، ناوِلْني سِبْتِيَّتيَّ، فناوَله نَعلَيه، فقام وهو يَتوقَّد حتى أتاها، فقال لها: كيف رأيتِ الله صَنَعَ بعدوِّ الله؟ قالت: رأيتُكَ أَفَسَدْتَ عليه دُنْياه، وأفسَدَ عليك آخِرَتك، وأمَّا ما كنتَ تُعيِّرُه بذات النِّطاقَينِ، أَجَلْ لقد كان لي نِطاقانِ: نطاقٌ أُغطِّي به طعامَ رسولَ الله ﷺ من النَّمل، ونِطاقي الآخر لا بُدَّ للنساء منه، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ فِي ثَقيفٍ كذابًا ومُبِيرًا"، فأما الكذابُ فقد رأَيناه (4) ، وأما المُبِيرُ فأنت ذاكَ، قال: فخرج (1) . وقد صحَّت الرواياتُ بسماع عبد الله بن الزُّبير من رسول الله ﷺ، ودخولِه عليه وخروجِه من عنده وهو ابنُ ثمانِ سنين، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله تعالى في هذا الموضع أخباره التي تدلُّ على ذلك، فإنَّ المخرَّجَ في مُسندِه عن رسول الله ﷺ نيِّفٌ وسبعون حديثًا.
ابونوفل بن ابی عقرب عریجی بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے ایک ٹیلے پر سولی لٹکایا ہوا تھا تاکہ قریشی لوگ ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ اور اس کی بیعت کا اقرار کریں، چنانچہ لوگ وہاں سے گزرنے لگے، کوئی بھی ان کے لاشے کے پاس کھڑا نہیں ہوتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرے تو وہاں کھڑے ہو گئے، اور یوں گویا ہوئے ” السلام علیک ابا خبیب “ تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے، پھر کہنے لگے: میں نے تمہیں اس بات سے روکا تھا، (یہ الفاظ بھی تین مرتبہ کہے) پھر فرمایا: بے شک تو روزہ دار تھا، شب زندہ دار تھا، تو صلہ رحمی کرنے والا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے یوں کھڑے ہونے اور ان کو سلام کرنے اور ان کی تعریف کرنے کی باتیں حجاج بن یوسف تک پہنچ گئیں۔ حجاج نے ان کا لاشہ سولی سے اتروا کر یہودیوں کے قبرستان میں پھینکوا دیا، پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ حجاج کے پاس آئیں، اس وقت ان کی بینائی زائل ہو چکی تھی، انہوں نے حجاج کے پاس جانے سے انکار کر دیا، اس نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ تم لازمی میرے پاس آؤ، ورنہ میں ایسے آدمی کو تمہارے پاس بھیجوں گا جو تجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے گا۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی، تم اس آدمی کو بھیجو میرے پاس جو میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹے، چنانچہ حجاج کا قاصد ان کے پاس آیا اور سیدہ اسماء کو حجاج کا پیغام دیا۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: میری سواری مجھے دو، اس نے اپنا خچر ان کو پیش کر دیا، سیدہ اسماء اس تیز رفتار خچر پر سوار ہو کر حجاج کے پاس آئیں۔ حجاج نے ان سے کہا: تم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن کا کیسا انجام کیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تو نے اس کی دنیا برباد کر دی اور اپنی آخرت تباہ کر لی۔ اور تو مجھے ” ذات انطاقتین “ کی شرم دلایا کرتا تھا؟ جی ہاں۔ میرے دو نطاق ہوا کرتے تھے، ایک نطاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا چیونٹیوں سے بچا کر رکھتی تھی، اور دوسرا نطاق وہ تھا جو عورتوں کا عموماً ہوتا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” ثقیف میں ایک کذاب ہو گا اور ایک ہلاکو ہو گا۔ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ہلاکو تو ہے “۔ ٭٭ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے، اس وقت ان کی عمر 8 سال تھی (امام حاکم کہتے ہیں) اس مقام پر میں ان شاء اللہ وہ احادیث نقل کروں گا جن سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ان کی احادیث کی تعداد ستر کے قریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6479]
حدیث نمبر: 6480
أخبرني إبراهيم بن عِصْمَة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الهُنَيد بن القاسم بن عبد الرحمن بن ماعِزٍ قال: سمعتُ عامرَ بنَ عبد الله بن الزُّبير يحدِّث، أنَّ أباه حدَّثه: أنه أَتى النبيَّ ﷺ وهو يَحتجِمُ، فلما فَرَغَ من حَجامتِه (2) قال:"يا عبدَ الله، اذهَبْ بهذا الدم فأَهرِقْه حيثُ لا يراكَ أحدٌ"، فلما بَرَرْتُ عن رسولَ الله ﷺ عَمَدت إلى الدم فحَسَوتُه، فلما رجعتُ إلى النبي ﷺ قال:"ما صنعتَ يا عبد الله؟" قال: جعلتُه في مكانٍ ظَنَنتُ أنه خافٍ على الناس، قال:"فلعلَّك شَرِبتَه؟" قلت: نعم، قال:"ومَن أمَرَك أن تشربَ الدمَ؟ وَيلٌ لك من الناس، ووَيلٌ للناسِ منك" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) ایک دفعہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پچھنے لگوا رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے عبداللہ! یہ خون لے جاؤ اور کسی ایسی جگہ پر گرا دو جہاں تمہیں کوئی نہ دیکھ رہا ہو، (آپ فرماتے ہیں) جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے اوجھل ہوا تو میں نے وہ خون پی لیا۔ جب میں لوٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عبداللہ! تم نے اس خون کا کیا کیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کو ایسی جگہ پر ڈال دیا ہے جو لوگوں سے محفوظ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تم نے وہ خون پی لیا ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا تھا وہ خون پینے کو؟ تیرے لئے لوگوں سے ہلاکت ہے اور لوگوں کے لئے تجھ سے ہلاکت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6480]