المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
864. وَصِيَّةُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِنَ ابْنِهِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی طرف سے وصیت
حدیث نمبر: 6532
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة، بن حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد: أنه كان يقول: تَحدَّثوا، فإنَّ الحديثَ يذكِّر الحديثَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6391 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6391 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ تم حدیث بیان کیا کرو، کیونکہ ایک حدیث سے دوسری یاد آ جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6532]
حدیث نمبر: 6533
أخبرني الأستاذ أبو الوليد، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرِّجَال، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن عبد الرحمن ابن أبي سعيد الخُدْري قال: قال لي أَبي: إني كَبِرتُ وذهب أصحابي وحامَّتي فخُذْ بيدي، قال: فاتَّكأ عليَّ حتى جاء إلى أقصى البَقِيع مكانًا لا يُدفَنُ فيه، فقال: يا بنيَّ، إذا أنا مِتُّ فادِفنِّي هاهنا، ولا تَضرِبْ عليَّ فُسْطاطًا، ولا تمشِ معي بنارٍ، ولا تبكيَنَّ عليَّ نائحةٌ، ولا تُؤذِنْ بي أحدًا، واسلُكْ بي زُقاقَ عمقة، وليكن مشيُك خَبَبًا. فهَلَكَ يومَ الجمعة، فكرهتُ أن أُؤذِنَ الناسَ لما كان يَنْهاني، فيأتوني فيقولون: متى تُخرِجوه؟ فأقول: إذا فَرَعْتُ من جِهازِه أُخرِجُه، قال: فامتلأَ عليَّ البقيعُ من الناس (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6392 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6392 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کہا: میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری جماعت اور میرے ساتھی تقریباً وفات پا چکے ہیں، تم میرا ہاتھ تھامو، راوی کہتے ہیں: پھر وہ میرے سہارے پر چلتے چلتے بقیع مبارک کے آخری حصے میں ایک مقام جہاں پر لوگ تدفین نہیں کرتے تھے، وہاں آئے اور فرمایا: اے بیٹے! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے یہاں پر دفن کرنا، میرے مزار پر خیمہ نصب نہ کرنا، میرے جنازے کے ہمراہ آگ لے کر نہ چلنا، اور یرے جنازے پر کسی رونے والی کو رونے کی اجازت نہ دینا، میرے جنازے کی کسی کو اطلاع بھی نہ دینا، اور چھوٹی تنگ گلیوں میں سے گزرنا اور تم تیز تیز چلتے ہوئے جنازہ لے جانا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا انتقال جمعہ کے دن ہوا۔ کیونکہ والد محترم نے اعلان نہ کرنے کی وصیت فرمائی تھی، اس لئے میں نے آپ کی وفات کا اعلان نہ کیا، لوگوں کو خود ہی پتا چل گیا اور لوگ آ آ کر پوچھتے تھے کہ جنازہ کب نکلے گا؟ میں کہہ دیتا: جب جنازہ تیار ہو گا تب نکلے گا۔ آپ فرماتے ہیں: اس کے باوجود پورا بقیع مبارک آپ کے جنازے میں شرکت کے لئے انسانوں سے بھر گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6533]
حدیث نمبر: 6534
أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح، حدثنا محمد بن شاذانَ، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن الجُرَيري، عن أبي نَضْرة قال: قلنا لأبي سعيد: إنك تحدِّثُنا بأحاديثَ مُعجِبةٍ، وإنا نخافُ أن نزيدّ أو نَنقُصَ، فلو كتبناها، قال: لن أُكتِبَكُموه (2) ، ولن نجعلَه قرآنًا، ولكن احفَظُوا عنَّا كما حَفِظْنا. ثم قال مرة أخرى: خُذُوا عنّا كما أخَذْنا عن رسول الله ﷺ (3) .
سیدنا ابونضرہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں بہت دلچسپ اور عجیب احادیث سناتے ہیں، ہمیں یہ ڈر ہے کہ ان میں کہیں کمی زیادتی نہ ہو جائے، اگر ہم ان کو لکھ لیں تو کیسا ہے؟ انہوں نے لکھنے سے منع فرماتے ہوئے کہا: تم احادیث کو قرآن بنانے کی کوشش مت کرو (یعنی جیسے وہ لکھا ہوا ہے، احادیث کو بھی اسی انداز میں لکھو گے تو قرآن کریم کی برابری ہو جائے گی، اس لئے تم احادیث کو لکھو مت بلکہ) جیسے ہم نے احادیث یاد کی ہیں، تم بھی ہم سے پڑھ کر اسی طرح یاد کر لو، پھر فرمایا: جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث یاد کی ہیں، اسی طرح تم ہم سے یاد کر لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6534]