المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
953. ذِكْرُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا جابر بن سمرة سوائی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6729
أخبرني أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، حدثنا العبّاس بن سالم، عن أبي سلَّام، عن أبي أُمامة الباهلي، عن عمرو بن عَبَسَة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ أولَ ما بُعث وهو يومئذ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ"، قلتُ: وما نبيٌّ؟ قال:"رسولُ الله"، قلتُ: اللهُ أرسلَك؟ قال:"نعم"، قلتُ: بما أرسلَك؟ قال:"بأن تَعبُدوا اللهَ، وتَكسِروا الأوثانَ، وتَصِلُوا الأرحامَ"، قلتُ: نِعمَّا أرسلَك، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال:"حرٌ وعبدٌ"؛ يعني أبا بكر وبلالًا -فكان عمرو بن عَبَسة يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبعُ الإسلام- فأسلمتُ، ثم قلتُ: أتبعُك يا رسولَ الله؟ قال:"لا، ولكن الحَقْ بأرضِ قومِك، فإذا ظهرتُ فأتِني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جابر بن سَمُرة السُّوَائي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6584 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جابر بن سَمُرة السُّوَائي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6584 - صحيح
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے اوائل میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا تعارف پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ میں نے کہا: کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، بتوں کو توڑ دیں، اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں۔ میں نے کہا: آپ کتنا اچھا پیغام لائے ہیں، آپ کے پیغام پر کتنے لوگ آپ پر ایمان لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام یعنی ابوبکر اور بلال۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ” میرا خیال ہے کہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لانے والا شخص ہوں۔ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا، میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کے ہمراہ رہ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ابھی تم اپنے قبیلے میں چلے جاؤ، جب میں ظاہر ہو جاؤں تو چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6729]
حدیث نمبر: 6730
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة ابن خيَّاط قال: جابرُ بن سَمُرة السُّوائي، يُكنى أبا خالد، ويقال: أبو عبد الله مات في ولاية بِشر بن مروان.
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: جابر بن سمرہ سوائی، ان کی کنیت ” ابوخالد “ ہے، بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کی کنیت ” ابوعبداللہ “ ہے۔ بشر بن مروان کے دور حکومت میں ان کی وفات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6730]
حدیث نمبر: 6731
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن بن يحيى، (ح) وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب؛ قالا: حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا جَرير، عن المغيرة، عن الشَّعبي، عن جابر بن سَمُرة قال: كنتُ عندَ رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول:"لا يزالُ أمرُ هذه الأمة ظاهرًا حتى يقومَ اثنا عشرَ خليفةً" وقال كلمةً خفيَتْ عليَّ، وكان أَبي أدنى إليه مجلسًا منِّي، فقلتُ: ما قال؟ فقال:"كلُّهم من قريش" (1) . وقد روى جابر بن سَمُرة عن أبيه حديثًا آخر:
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کا معاملہ ہمیشہ غالب رہے گا حتیٰ کہ 12 خلیفے قائم ہوں گے، اس کے بعد ایک اور بھی بات کہی، لیکن اس کی آواز مجھ تک نہیں پہنچی، اس مجلس میں میرے والد صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” وہ تمام خلیفے قریش سے تعلق رکھتے ہوں گے۔“ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے حوالے سے ایک اور حدیث بھی روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6731]