المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
976. ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا شداد بن الہاد لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6773
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي، حدثنا محمد ابن سَلَمةَ الحَرَّاني، عن بكر بن خُنيس (1) [عن أبي بَدر] (2) عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن أبيه، عن جدِّه قال: كانت في نفسي مسألةٌ قد أحزنَني أنِّي لم أسألْ رسولَ الله ﷺ عنها، ولم أسمع أحدًا يسألُه عنها، فكنتُ أتحيَّنُه، فدخلتُ عليه ذاتَ يوم وهو يتوضأ، فوافقتُه على حالتين كنتُ أحبُّ أن أوافقَه عليهما، وجدتُه فارغًا طيِّبَ النفس، فقلتُ: يا رسول الله، ائذَنْ لي فأسألَكَ؟ قال:"نعم، سَلْ عَمَّا بَدَا لك"، قلتُ: يا رسول الله، ما الإيمان؟ قال:"السماحةُ والصبرُ"، قلتُ: فأيُّ المؤمنين أفضلُ إيمانًا؟ قال:"أحسنهم خُلقًا"، قلتُ: فأيُّ المسلمين أفضلُ إسلامًا؟ قال:"من سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه"، قلتُ: فأيُّ الجهاد أفضلُ؟ فطأطأ رأسَه، فصمتَ طويلًا حتى خفتُ أن أكونَ قد شققتُ عليه، وتمنَّيتُ أن لم أكن سألتُه، وقد سمعتُه بالأمس يقول:"إنَّ أعظمَ المسلمين في المسلمين جُرمًا لَمَن سألَ عن شيءٍ لم يُحرَّمْ عليهم (3) ، فحُرِّمَ عليهم من أجلِ مسألتِه"، فقلتُ: أعوذُ بالله من غضبِ الله وغضبِ رسولِه، فرفع رأسَه، فقال:"كيف قلتَ؟" قلتُ: أيُّ الجهاد أفضلُ؟ فقال:"كلمةُ عدلٍ عندَ إمامٍ جائرٍ" (4) أبو بَدْرٍ (1) الراوي عن عبد الله بن عبيد بن عمير اسمُه بشّار بنُ الحَكَم، شيخٌ من البصرة، قد روى عن ثابت البُناني غيرَ حديث. ذكرُ شدَّاد بن الهادِ اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6628 - أورد له الحاكم حديثا ضعيفا يعني هذا الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6628 - أورد له الحاكم حديثا ضعيفا يعني هذا الحديث
سیدنا عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دل میں کچھ سوالات تھے اور میں ہر وقت اس پریشانی میں رہتا تھا کہ میں ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں سکا، اور نہ ہی کسی اور نے وہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ میں سن لیتا، میں کسی مناسب وقت کی تاک میں تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ دو کیفیتیں مل گئیں جن کے بارے میں میری خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو کیفیتوں میں ہوں اور میری ملاقات ہو جائے، ان میں سے ایک بات تو یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فارغ تھے اور دوسری بات یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج شریف بہت خوشگوار تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مجھے کچھ سوالات پوچھنے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم جو پوچھنا چاہتے ہو، پوچھو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سخاوت اور صبر۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس مومن کا ایمان سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا اخلاق سب سے افضل ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس مسلمان کا اسلام سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ میں نے پوچھا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکا لیا اور بہت دیر تک خاموش رہے، اتنی دیر خاموشی سے مجھے یہ خوف ہونے لگا کہ شاید میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں مبتلا کر دیا ہے، اور میری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش میں نے یہ سوال ہی نہ کیا ہوتا، جبکہ گزشتہ دن میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس کے سوال کی وجہ سے ایسی چیز حرام ہو جائے جو اس کے سوال سے پہلے حلال تھی۔ میں نے کہا: میں اللہ کے غضب سے اور اللہ کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: تم نے کیا پوچھا تھا؟ میں نے کہا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بولنا۔ ٭٭ اس حدیث کے راوی جو ابوبدر ہیں اور عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر رہے ہیں، ان کا نام بشار بن حکم ہے۔ یہ بصرہ میں شیخ الحدیث ہیں۔ انہوں نے ثابت البنانی سے اس حدیث کے علاوہ بھی کئی احادیث روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6773]
حدیث نمبر: 6774
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خليفة بن خيَّاط قال: شدَّادُ بن الهاد بن عمرو بن عبد الله بن جابر بن نَمِر بن عامر بن ليث بن بكر، واسمُ الهادِ أسامةُ، وهو أبو عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، تحوَّل إلى الكوفة.
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” شداد بن الہاد بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن نمیر بن عتوارہ بن عامر بن لیث بن بکرہ “۔ ہاد کا اصل نام ” اسامہ “ ہے۔ یہی عبداللہ بن شداد بن الہاد ہیں۔ آپ کوفہ میں منتقل ہو گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6774]
حدیث نمبر: 6775
أخبرناه أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عبيدة؛ فذكر هذا النسب، وقال: إنما سُمِّي الهاد؛ لأنه كان يَهدي الطريق.
ابوعبیدہ نے بھی مذکورہ بالا نسب بیان کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا: ان کا نام ” ہاد “ اس لئے رکھا گیا کہ وہ لوگوں کو راستہ بتایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6775]