المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1008. قِصَّةٌ عَجِيبَةٌ لِأَبِي أُمَامَةَ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا ایک عجیب واقعہ
حدیث نمبر: 6849
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خيَّاط قال: أبو أُمامة صُدَي بن عَجْلان بن وهب بن عَرِيب بن وهب بن رَبَاح بن الحارث بن وهب بن مَعْن بن مالك بن أعصَر بن سعد بن قيس عَيْلان بن مُضَر، نزل الشام. قال خليفة: نَسَبَه عبدُ الملك بن قُريب الأصمعي، قال: وباهلةُ هي امرأةُ مَعْن بن مالك بن أعصَر بن سعد بن قيس عَيْلان، ولدُها يُنسَبون إليها، وهي باهلة بنت سعدِ العَشيرة بن مالك بن أُدَد بن زيد بن يَشجُب بن يَعرُب بن قَحطان (1) . قال شباب بن خيَّاط: ومات أبو أمامة سنةَ ستٍّ وثمانين.
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” ابوامامہ صدی بن عجلان بن وہب بن عریب بن وہب بن رباح بن حارث بن وہب بن معن بن مالک بن اعصر بن سعد بن قیس عیلان بن نضر “ آپ شام میں قیام پذیر رہے۔ خلیفہ کہتے ہیں: عبدالملک بن قریب اصمعی نے ان کا نسب بیان کرتے ہوئے کہا ہے:” باہلہ “ معن بن مالک بن اعصر بن سعد بن قیس عیلان کی بیوی ہے۔ باہلہ کی اولاد اسی کی جانب منسوب ہوتی ہے، یہ ” باہلہ بنت سعد العشیرہ بن مالک بن ادد بن زید بن یشجب بن یعرب بن قحطان “ ہے۔ شباب بن خیاط کہتے ہیں: سیدنا ابوامامہ 86 ہجری کو فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6849]