🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1015. ذِكْرُ أَدَاءِ الصَّدَاقِ قَبْلَ الْبِنَاءِ
نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے مہر ادا کرنے کے بیان کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6862
قال ابن عمر: فحدثنا موسى بن محمد بن عبد الرحمن، عن رَيْطة، عن عَمْرة، عن عائشة أنها سُئلت: متى بَنَى بكِ رسولُ الله؟ فقالت: لما هاجرَ رسولُ الله ﷺ إلى المدينة خلَّفَنا وخلَّف بناتِه، فلما قَدِمَ المدينة بعث إلينا زيدَ بن حارثة وبعث معه أبا رافعٍ مولاه، وأعطاهم بعيرَينِ وخمسَ مئة درهم أخذَها رسولُ الله ﷺ من أبي بكر يشتريان بها ما يحتاجانِ إليه من الظَّهْر، وبعث أبو بكر معهما عبدَ الله بن أُريقط الدِّيلي ببعيرين أو ثلاثةٍ، وكتب إلى عبد الله بن أبي بكر يأمُرُه أن يحملَ أهلَه: أمَّ رُومان وأنا وأختي أسماءَ امرأةَ الزُّبير، فخرجوا مُصطحِبِينَ. فلما انتهوا إلى قُديد اشترى زيدُ بن حارثة بتلك الخمسِ مئة درهم ثلاثةَ أبعرة، ثم دخلوا مكةَ جميعًا، وصادفوا طلحةَ بن عبيد الله يريدُ الهجرةَ بآلِ أبي بكر، فخرجنا جميعًا، وخرجَ زيدُ بن حارثة وأبو رافع بفاطمةَ وأمِّ كلثوم وسَوْدةَ بنت زَمْعة، وحمل زيدٌ أمَّ أيمنَ وأسامةَ بن زيد، وخرج عبدُ الله بن أبي بكر بأمِّ رُومان وأختيه، وخرج طلحةُ بن عبيد الله، واصطحبنا جميعًا، حتَّى إذا كُنَّا بالبَيْض من تمنِّي (1) نفَرَ بعيري وأنا في مِحَفَّة معي فيها أُمِّي، فجعلَتْ أمِّي تقول: وابِنتاهُ واعَرُوساهْ! حتَّى أُدرك بعيرنا وقد هَبطَ من لَفْت (2) فَسَلِمَ. ثم إنَّا قَدِمنا المدينة فنزلتُ مع عِيالِ أبي بكر، ونزل آلُ (3) رسولِ الله ﷺ وهو يومئذٍ يبني المسجدَ وأبياتَنا حولَ المسجد، فأنزل فيها أهلَه، ومكثنا أيامًا في منزلِ أبي بكر. قال أبو بكر: يا رسولَ الله، ما يمنعُك أن تَبنيَ بأهلِك؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"الصَّدَاق"، فأعطاه أبو بكر اثنتي عشرةَ (4) أوقيّةً ونَشًّا، فبعث [بها] رسولُ الله ﷺ إلينا، وبَنَى بي رسول الله ﷺ في بيتي هذا الذي أنا فيه، وهو الذي توفِّي فيه رسولُ الله ﷺ ودُفِنَ فيه، وجَعَلَ رسولُ الله ﷺ لنفسِه بابًا في المسجد وِجاهَ باب عائشةَ. قالت: وبَنَى رسول الله ﷺ بسَوْدة في أحدِ تلك (1) البيوت التي إلى جنبي، وكان رسولُ الله ﷺ يكونُ عندها. قال: وتُوفِّيَت عائشة ﵂ سنةَ ثمانٍ وخمسين في شهر رمضانَ (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی رخصتی کب فرمائی؟ تو انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ہمیں اور اپنی صاحبزادیوں کو (مکہ میں) پیچھے چھوڑ دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف زید بن حارثہ اور اپنے آزاد کردہ غلام ابو رافع کو بھیجا اور انہیں دو اونٹ اور پانچ سو درہم عطا فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سواریوں کے لیے ضروری سامان کی خریداری کی خاطر لیے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہمراہ عبداللہ بن اریقط دیلی کو دو یا تین اونٹوں کے ساتھ روانہ کیا اور عبداللہ بن ابی بکر کو خط لکھا کہ وہ اپنے گھر والوں یعنی ام رومان، مجھے اور میری بہن اسماء زوجہ زبیر کو ساتھ لے آئیں، چنانچہ وہ سب روانہ ہوئے اور جب مقامِ قدید پہنچے تو زید بن حارثہ نے ان پانچ سو درہموں سے تین اونٹ خریدے، پھر وہ سب مکہ میں داخل ہوئے اور وہاں ان کی ملاقات طلحہ بن عبید اللہ سے ہوئی جو آلِ ابوبکر کو لے کر ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے، پھر ہم سب ایک ساتھ روانہ ہوئے، زید بن حارثہ اور ابو رافع نے سیدہ فاطمہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ سودہ بنت زمعہ کو ساتھ لیا جبکہ زید نے ام ایمن اور اسامہ بن زید کو بھی سوار کیا، عبداللہ بن ابی بکر اپنی والدہ ام رومان اور اپنی دونوں بہنوں کو لے کر نکلے، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بھی ساتھ تھے، ہم سب اکٹھے چلے یہاں تک کہ جب ہم مقامِ بید پر پہنچے تو میرا اونٹ بدک گیا جبکہ میں ایک ہودج میں اپنی والدہ کے ساتھ تھی، میری والدہ پکارنے لگیں: ہائے میری بیٹی! ہائے میری دلہن! یہاں تک کہ ہمارا اونٹ لفت کی ڈھلوان سے نیچے اترا اور قابو میں آ گیا اور ہم سلامت رہے، پھر ہم مدینہ پہنچے تو میں ابوبکر کے گھر والوں کے پاس ٹھہری جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال اپنی جگہ ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مسجد اور ہمارے حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو وہاں منتقل کر دیا اور ہم چند دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر مقیم رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اپنی اہلیہ کی رخصتی سے کیا چیز روک رہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہر۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہ اوقیہ اور ایک نش (ساڑھے بارہ اوقیہ) مہر کے لیے عطا کیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مہر ہماری طرف بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی گھر میں میری رخصتی فرمائی جس میں آج میں مقیم ہوں اور اسی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اپنے لیے ایک دروازہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے کے بالکل سامنے رکھا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان گھروں میں سے ایک گھر بنایا جو میرے پہلو میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 58 ہجری میں ماہِ رمضان میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6862]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وسبق الكلام على إسناده إلى محمد بن عمر الواقدي عند الحديث السالف برقم (4060)، وموسى بن محمد بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن حارثة بن النعمان، وأبوه المعروف بأبي الرّجال، فهو معروف النسب، لكن لم نقف له على ترجمة، وكذا ريطة لم نعرفها.» [ترقيم الرساله 6862] [ترقيم الشركة 6782]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں