سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب إِذَا أُغْمِيَ الشَّهْرُ
باب: جب (بادل کی وجہ سے) مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2325]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی تاریخوں کی اتنی نگہداشت رکھتے تھے کہ دوسرے مہینوں میں اتنی نگہداشت نہ رکھتے تھے۔ پھر چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنے شروع کرتے، اگر کبھی (شعبان کی انتیس تاریخ کو) مطلع ابرآلود ہوتا، تو تیس دن پورے کرتے اور پھر روزے رکھنا شروع کرتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1980)
صححه ابن خزيمة (1910 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1980)
صححه ابن خزيمة (1910 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يُسَمِّ حُذَيْفَةَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2326]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے مت رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو یا (تیس کی) گنتی پوری کر لو، پھر روزے رکھتے جاؤ حتیٰ کہ چاند دیکھ لو یا (تیس کی) گنتی پوری کر لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو سفیان وغیرہ نے منصور سے، انہوں نے ربعی سے، انہوں نے ایک صحابی سے بیان کیا ہے اور اس سند میں (صحابی کے نام) حذیفہ کی صراحت نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الصیام ٔ (2128، 2129)، (تحفة الأشراف: 3316)، وقد أخرجہ: حم(4/314) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (2128 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1911 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (2128 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1911 وسنده صحيح)