🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1045. ذِكْرُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ ام المؤمنین جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6940
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدّثنا علي بن عاصم، عن داود بن أبي هند، عن عامر (1) قال: كانت زينبُ بنت جَحْش تقول للنبيِّ ﷺ: أنا أعظمُ نسائِك عليك حقًّا، أنا خيرُهنَّ منْكَحًا، وأكرمُهنَّ سفيرًا (2) ، وأقربهنَّ رَحِمًا، ثم تقول: زوَّجَنيكَ الرحمنُ ﷿ من فوقِ عرشِه، وكان جبريلُ ﵇ هو السفيرَ بذلك، وأنا ابنةُ عمَّتِك، وليس لك من نسائك قريبةٌ غيري (3) . قد ذكرتُ في أول الترجمة أنَّ أمّ زينب بنت جحش أميمة بنت عبد المطلب بن هاشم، وهي عمة النبيّ ﷺ. ذكرُ جُويرية بنت الحارث أمِّ المؤمنين ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6777 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عامر فرماتے ہیں: سیدنا بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتی تھی: آپ کی تمام بیویوں سے میرا حق سب سے زیادہ ہے، کیونکہ مقام نکاح کے لحاظ سے میں سب سے بہتر ہوں، میں سب سے زیادہ پردے کا اہتمام کرتی ہوں، اور آپ کی سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ پھر آپ فرماتی: اللہ تعالیٰ نے عرش کے اوپر میرا نکاح پڑھایا، اس چیز کا سفیر سیدنا جبریل امین علیہ السلام ہیں۔ میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں۔ اور آپ کی بیویوں میں سے میرے علاوہ اور کوئی بھی آپ کا اتنا قریبی رشتہ دار کوئی نہیں ہے۔ (امام حاکم کہتے ہیں) ہم نے ان کے ترجمۃ الباب کے آغاز ہی میں ذکر کر دیا تھا کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم ہیں، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6940]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6941
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان المَوصلي، حدّثنا علي بن حرب الموصليّ، حدّثنا سفيان بن عُيَينة، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد قال: قالت جُوَيريَةُ بنتُ الحارث لرسول الله ﷺ: إِنَّ أزواجك يَفخَرْنَ عليَّ يَقُلنَ: لم يتزوَّجْكِ رسولُ الله ﷺ، إنما أنت مِلكُ يمينٍ، فقال رسول الله ﷺ:"ألم أُعْظِمْ صَدَاقَكِ؟ ألم أُعتِقْ أربعين رَقَبةً (1) من قومِك؟" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6778 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد کہتے ہیں: سیدہ جویریہ بنت الحارث نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: آپ کی ازواج مجھے یہ بات بہت فخریہ بیان کرتی ہیں اور کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نکاح نہیں کیا، تم تو ان کی کنیز ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہارا حق مہر سب سے عظیم نہیں کر دیا تھا؟ کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو آزاد نہیں کیا؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6941]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6942
حدّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن عائشة قالت: لما أصابَ رسول الله ﷺ سَبايا بني المُصطَلِق، وقعت جويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار في السَّهم لثابتِ بن قيس بن الشمَّاس، فكاتبَتْه على نفسِها، وكانت امرأةً حُلوةً مليحةً لا يكادُ يراها أحدٌ إلَّا أخذت بنفسه، قال: فأتت رسول الله ﷺ تستعينُ به على كِتابتها (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6779 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی مصطلق کی لونڈیاں مال غیمت کے طور پر آئیں، تو جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، انہوں نے اپنے آپ کو ان سے مکاتب بنوا لیا، آپ بہت حسین و جمیل تھیں، جو بھی ان کو ایک نظر دیکھ لیتا وہ دل تھام کر بیٹھ جاتا تھا، آپ اپنی کتابت کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6942]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں