🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1076. وَفَاةُ زَيْنَبَ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7010
قال محمد بن عمر: وأخبرني هشام بن محمد الكَلْبي، قال: أخبرني أبي، عن أبي صالح (1) ، عن ابن عبّاس قال: كان أسنَّ ولدِ رسول الله ﷺ القاسم، ثم زينبُ، فتزوّج زينب أبو العاص بن الربيع، فولدت له عليًا وأمامة، وفيها يقول أبو العاص: ذكرتُ زينب لمَّا وَرَّكَتْ (2) إِرَمَا … فقلتُ: سَقْيًا لشخصٍ يسكنُ الحَرَما بنتُ الأمين جزاها الله صالحة … وكلُّ بَعْلٍ سيُثْني بالذي عَلِما (3)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں میں سب سے بڑے سیدنا قاسم تھے، پھر زینب رضی اللہ عنہا تھیں، سیدہ زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع کے ساتھ ہوا، ان کے ہاں علی اور امامہ پیدا ہوئے۔ ابوالعاص نے ان کے بارے میں درج ذیل اشعار کہے۔ میں نے زینب کو یاد کیا جب اس کا انتقال ہو گیا، میں نے کہا ایسے شخص کے لئے سیرابی ہے جو حرم میں رہتا ہو، زینب ایک امین شخص (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھی)۔ اللہ تعالیٰ اسے بہترین جزا عطا کرے، ہر شوہر اپنے علم کے مطابق ہی (اپنی بیوی کی) تعریف کرتا ہے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7010]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7011
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال: كانت زينب بنت رسول الله ﷺ أسنّ بناته، وكان سبب وفاتها أنَّها لما أُخرجت من مكة إلى رسول الله ﷺ أدركها هبَّارُ بن الأسود ورجلٌ آخر، فدفعها أحدهما فيما قيل، فسقطت على صخرةٍ، فأسقطت حَمْلَها إذ كانت حاملةً، فأهراقَتِ الدَّمَ، فلم يزل بها وجعُها حتى ماتت منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6839 - حذفه الذهبي من التلخيص
مصعب بن عمیر زبیری فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، حضور کی تمام بیٹیوں میں سے بڑی تھیں۔ ان کی وفات کا سبب یہ تھا کہ جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لئے مکہ سے نکلیں تو ہبار بن اسود اور ایک دوسرے آدمی نے ان کو پکڑ لیا، ان میں سے ایک نے ان کے اونٹ کو نیچے گرا دیا جس کی وجہ سے آپ بھی گر گئیں، آپ اس وقت حاملہ تھیں۔ نیچے گرنے کی وجہ سے ان کا حمل گر گیا، اور خون جاری ہو گیا، خون مسلسل بہتا رہا اور اسی تکلیف میں ان کا انتقال ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7011]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں