المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1129. ذِكْرُ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ جذامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7111
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدَّثنا الحسين بن محمد القبَّاني، حدَّثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدَّثنا سَعْد (2) أبو عاصم مولى سليمان بن علي، حدَّثنا نافع، أنَّ أمَّ قيس حدَّثته: أنَّ رسول الله ﷺ خَرَجَ بها آخذًا بيدِها في سِكَّة المدينة حتى انتهى إلى البقيعِ بقيع الغَرْقد، فقال:"يا أُمَّ قيس" قلتُ: لبَّيكَ وسَعدَيكَ يا رسولَ الله، قال:"أَترَينَ هذه المَقبُرةَ؟" قلتُ: نعم يا رسول الله، قال:"يَبعثُ الله (3) منها سبعين ألفًا يوم القيامة بصورةِ القمرِ ليلةَ البدر، يَدخُلُون الجنَّةَ بغير حسابٍ"، فقام عُكَّاشةُ فقال: وأنا يا رسول الله، قال:"وأنت"، فقام آخرُ فقال: وأنا، فقال:"سَبَقَكَ بها عُكَّاشةُ" (4) . ذكرُ جُدَامةَ (1) بنت وَهْب الأسدية ﵂
ام قیس بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ تھامے مدینہ منورہ کی ایک گلی میں نکلے اور چلتے چلتے بقیع غرقد تک جا پہنچے، (وہاں پہنچ کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، اے ام قیس! میں نے کہا: لبیک و سعدیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قبرستان دیکھ رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہاں سے ستر ہزار افراد ایسے اٹھائے جائیں گے، جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے، وہ بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں بھی (بغیر حساب کے جنت میں جاؤں گا؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی ہاں) اور تم بھی (بغیر حساب کے جنت میں جاؤ گے) ایک اور آدمی نے کہا: اور میں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر بازی لے گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7111]