سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب وَقْتِ السُّحُورِ
باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الْأُفْقِ الَّذِي هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ".
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں تمہاری سحری سے ہرگز نہ روکے اور نہ افق کی سفیدی (جو کہ سیدھی اوپر کو چڑھتی ہے) حتیٰ کہ اطراف میں پھیلنے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 8 (1094)، سنن الترمذی/الصوم 15 (706)، (تحفة الأشراف: 4624)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام 18 (2173)، مسند احمد (5/7، 9، 13، 18) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1094)
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ التَّيْمِيِّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي، لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا". قَالَ مُسَدَّدٌ: وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا، وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے“۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2347]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تم میں سے کسی کو سحری کھانے سے ہرگز نہ روکے۔ بلاشبہ وہ اذان کہتا ہے، یا کہا، ندا دیتا ہے تاکہ تمہارا نماز پڑھنے والا رک جائے (تہجد سے) اور سونے والا جاگ جائے۔ اور فجر (فجر صادق) وہ نہیں جو اس طرح سے ظاہر ہو۔“ مسدد نے کہا: راوی حدیث یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان کو اونچا کر کے دکھلایا (جو اونچی اور لمبی روشنی اول وقت ہوتی ہے وہ صبح نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک اس طرح ظاہر نہ ہو۔“ اور یحییٰ نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیاں اطراف میں پھیلا کر اشارے سے سمجھایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 13 (621)، الطلاق 24 (5298)، أخبارالآحاد 1 (7247)، صحیح مسلم/الصوم 8 (1093)، سنن النسائی/الأذان 11 (642)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1696) (تحفة الأشراف: 9375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 392، 435) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (621) صحيح مسلم (1093)
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْيَمَامَةِ.
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2348]
قیس بن طلق اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رات کو) کھاؤ اور پیو، اوپر چڑھنے والی سفیدی تمہیں اس سے نہ روکے، حتیٰ کہ افق کے اطراف میں سرخی پھیلنی شروع ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت میں اہل یمامہ منفرد ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 15 (705)، (تحفة الأشراف: 5025)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (705 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (705 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ الْمَعْنَى، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: أَخَذْتُ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ". وقَالَ عُثْمَانُ:" إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۷) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، ”تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ عثمان کی روایت میں ہے: ”اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2349]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”(تم کھاتے پیتے رہو) یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے۔“ تو میں نے دو رسیاں لے لیں، ایک سفید اور دوسری سیاہ اور انہیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا۔ میں انہیں دیکھتا رہا مگر وہ میرے لیے نمایاں اور واضح نہ ہوئیں۔ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: ”تیرا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے۔ اس سے مراد تو رات اور دن ہے۔“ عثمان کے الفاظ یہ ہیں: ”اس سے مراد تو رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 16(1916)، وتفسیر البقرة 28 (4509)، صحیح مسلم/الصیام 8 (1090)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 17 (2970م)، (تحفة الأشراف: 9856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/377)، سنن الدارمی/الصوم 7 (1736) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1916) صحيح مسلم (1090)