🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب وَقْتِ فِطْرِ الصَّائِمِ
باب: روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ:عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2351]
جناب عاصم اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے (مشرق کی جانب سے) اور ادھر سے دن چلا جائے (مغرب سے)۔ مسدد نے مزید کہا: اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار کے لیے افطار کا وقت ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 43(1954)، صحیح مسلم/الصیام10 (1100)، سنن الترمذی/الصوم 12 (698)، (تحفة الأشراف: 1074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/28، 35، 48)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1742) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1954) صحيح مسلم (1100)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ:" سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ:" يَا بِلَالُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ؟ قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2352]
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر میں) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے جبکہ آپ روزے سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا: اے بلال! اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ذرا شام ہو لینے دیجیے۔ آپ نے فرمایا: اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے۔ آپ نے فرمایا: اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ اترے، ستو گھولا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش کیا اور فرمایا: جب دیکھو کہ ادھر سے رات ہو گئی ہے تو بلاشبہ روزے دار کے لیے افطار کا وقت ہو گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 33 (1941)، 43 (1955)، 45 (1958)، والطلاق 22 (5297)، صحیح مسلم/الصیام 11(1101)، (تحفة الأشراف: 5163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/380، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1955) صحيح مسلم (1101)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں