🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ الذَّبَائِحِ
باب: ذبیحوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7282
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِماك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: إنَّ الشياطينَ لَيُوحُون إلى أوليائِهم، فيقولون: ما ذبح اللهُ فلا تأكلوه، وما ذبحتُم أنتم فكلوه، فأنزل الله ﵎: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7105 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: شیاطین اپنے ساتھیوں کو تلقین کرتے ہیں کہ جو چیز اللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو، وہ مت کھاؤ اور جو چیز تم خود مارو، اس کو کھا لیا کرو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: 121] وہ جانور نہ کھاؤ، جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7282]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7283
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا حَبَّان بن هِلال، حدثنا جَرير بن حازم، حدثنا أيوب، عن زيد بن أسلم، فلقيتُ (1) زيدَ بن أسلم فحدثني عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا أرادتْ ناقتُه أن تموت، فذبحَها بوَتِدٍ، فقلتُ له: حديدٌ؟ قال: لا، بل خشبٌ، فسأل النبيَّ ﷺ، فأمرَه بأكلِها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والإسنادُ صحيح على شرط الشيخين، وإنما لم أَحكم بالصحة على شرطهما، لأنَّ مالك بن أنس ﵀ أرسلَه في"الموطأ" عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7106 - صحيح غريب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی مرنے لگی تو اس نے اس کو وتد کے ساتھ ذبح کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا: وہ وتد لوہے کا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، لکڑی کا تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ میں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم نہیں لگایا کیونکہ مالک بن انس نے اس میں موطا میں زید بن اسلم سے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7283]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں