المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ فِي وَسَطِ الطَّعَامِ
برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7296
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب قال: دُعينا إلى طعام، ومَن ثَمَّ؟! ثَمَّ سعيدُ بن جُبير، ثَمَّ مِقسمٌ، ثَمَّ فلان، ثَمَّ فلان، فقال لهم سعيد بن جُبير حين وَضَعُوا الجَفْنَةَ: أكلُّكم قد سمع ما يُقال في الطعام؟ قال مِقسَم: حَدِّثهم، قال: إنَّ ابن عباس حدَّث عن رسول الله ﷺ:"إنَّ البَرَكةَ تَنزِلُ في وَسَطِ الطعام، فكُلُوا من حَافَاتِه ولا تأكُلوا من وَسَطِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7118 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7118 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، لہٰذا تم اس کے کناروں سے کھایا کرو اور درمیان سے نہ کھایا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7296]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7296]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عيينة. وأخرجه أحمد 4/ (2139) و (2730)، وأبو داود (3772)، وابن ماجه (3277)، والترمذي (1805)، والنسائي (6729)، وابن حبان (5245) من طرق عن عطاء بن السائب، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 7296] [ترقيم الشركة 7214] [ترقيم العلميه 7118]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7297
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنيسي، حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك، عن أبيه، أنه حدثه عن واثلة بن الأسقع، وكان من أهل الصُّفّة، قال: أقمنا ثلاثةَ أيام، وكان مَن يخرج من المسجد يأخذُ بيد الرجلين والثلاثة بقَدْر طاقتِه فيُطعمُهم، قال: فكنتُ فيمن أخطأه ذلك ثلاثةَ أيام ولياليَها، قال: فأبصرتُ أبا بكر عند العَتَمة فأتيتُه فاستقرأتُه من سورة سبأ، فبلغَ منزلَه، ورجوتُ أن يدعوَني إلى طعام، فقرأ عليَّ حتى بلغَ بابَ المنزل، ثم وقفَ على البابِ حتى قرأ عليَّ البقيةَ، ثم دخلَ وتركني، قال: ثم تعرَّضتُ لعمرَ، فصنعتُ به مثلَ ذلك، وذكر أنه صنعَ مثلَ ما صنعَ أبو بكر، فلمَّا أصبحتُ غَدَوتُ على رسولِ الله ﷺ، فأخبرتُه، فقال للجارية:"هل من شيء؟" قالت: نعم، رغيفٌ وكِيلةٌ من سَمْن، فدعا بها، ثم فَتَّ الخبزَ بيده، ثم أخذ تلك الكِيلةَ من السَّمن فلَتَّ تلك الخبزةَ، ثم جمعَه بيدِه حتى صيَّره ثريدةً، ثم قال:"اذهَبْ ادْعُ عشرةً أنت عاشرُهم"، فدعوتُ عشرةً أنا عاشرُهم، ثم قال:"اجلِسُوا"، ووُضعتِ القصعةُ، ثم قال:"كُلُوا باسم الله، كُلُوا من جوانبها، ولا تأكلُوا من فوقها، فإنَّ البَرَكةَ تَنزِلُ من فوقِها"، فأكَلْنا حتى صَدَرْنا، فكأنما خطَّطْنا فيها بأصابعِنا، ثم أخذها منا وأصلَحَ منها وردَّها، ثم قال:"ادْعُ لي عشرةً"، وذكر أنه دعا بعد ذلك مرتين (1) عشرةً عشرةً، وقال: وفَضَلُوا فَضْلًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7119 - خالد وثقه بعضهم وقال النسائي ليس بثقة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7119 - خالد وثقه بعضهم وقال النسائي ليس بثقة
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اصحابِ صفہ میں سے تھے، انہوں نے کہا: ہم پر تین دن ایسے گزرے (کہ فاقہ تھا)، دستور یہ تھا کہ جو شخص مسجد سے نکلتا وہ اپنی بساط کے مطابق دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ تھام کر لے جاتا اور انہیں کھانا کھلاتا، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں تین دن اور تین راتیں کھانا میسر نہ ہو سکا، پھر میں نے عشاء کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں ان کے پاس گیا اور ان سے سورہ سبا کی تلاوت سننے کی فرمائش کی، وہ تلاوت کرتے ہوئے اپنے گھر پہنچ گئے، مجھے امید تھی کہ وہ مجھے کھانے کی دعوت دیں گے لیکن انہوں نے گھر کے دروازے تک تلاوت کی اور وہیں رک کر بقیہ سورت مکمل کی، پھر اندر داخل ہو گئے اور مجھے چھوڑ دیا، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا (مگر نتیجہ وہی رہا)، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا قصہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی سے دریافت فرمایا: ”کیا کچھ کھانے کو ہے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں، ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوایا، پھر اپنے دستِ مبارک سے روٹی کے ٹکڑے کیے اور اس میں گھی ملا کر اسے ثرید بنا دیا، پھر فرمایا: ”جاؤ دس آدمیوں کو بلا لاؤ جن میں دسویں تم ہو“، میں نے دس آدمیوں کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، اور لنگری سامنے رکھی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے (بسم اللہ کہہ کر) کھاؤ، اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر (درمیان) سے نہ کھاؤ کیونکہ برکت اوپر سے نازل ہوتی ہے“، پس ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور پیالہ ویسا ہی بھرا تھا جیسے ہم نے صرف انگلیوں سے اس پر لکیریں ماری ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم سے لیا اور اسے درست کر کے فرمایا: ”مزید دس آدمیوں کو بلاؤ“، راوی نے ذکر کیا کہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دس دس آدمیوں کو بلا کر کھلایا اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7297]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7297]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، خالد بن يزيد - وهو ابن عبد الرحمن - بن أبي مالك أكثر أهل العلم على تضعيفه، وقد روي هذا الحديث من غير ما وجه عن واثلة في كلٍّ منها فقال، وفي متونها اختلاف. لكن الأمر بالأكل من جوانب القصعة صحيح، كما في الحديث السابق. وأخرج نحوه مختصرًا ...» [ترقيم الرساله 7297] [ترقيم الشركة 7215] [ترقيم العلميه 7119]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف