سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب فِي الْوِصَالِ
باب: صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2360
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2360]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں میں وصال کرنے سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ تو وصال کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ بیشک مجھے کھلایا پلایا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 20 (1922)، 48 (1962)، صحیح مسلم/الصیام 11 (1102)، (تحفة الأشراف: 8353)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 13 (38)، مسند احمد (2/112، 128) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1962) صحيح مسلم (1102)
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ مُضَرَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرَ"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنَّ لِي مُطْعِمًا يُطْعِمُنِي وَسَاقِيًا يَسْقِينِي".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم صوم وصال نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے“۔ لوگوں نے کہا: آپ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2361]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ (روزوں میں) وصال مت کرو، اور جو کوئی وصال کرنا چاہے، تو سحر تک کر لے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”آپ تو وصال کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، بلاشبہ ایک کھلانے والا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلانے والا ہے جو مجھے پلاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 48 (1962)، 50(1967)، (تحفة الأشراف: 4095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/8، 87)، سنن الدارمی/الصوم 14 (1747) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1963)