المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. بِرَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر باپ کے ساتھ، پھر جو زیادہ قریبی ہو
حدیث نمبر: 7427
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا إبراهيم بن يحيى بن محمد المدني الشَّجري، حدثني أبي، عن عُبيد بن يحيى، عن مُعاذ بن رِفاعة بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه رِفاعة بن رافع - وكان قد شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ: أنه خرج (3) وابنَ خالتِه معاذَ بنَ عفراءَ حتى قَدِما مكة، فلمّا هبطا من الثَّنِيَّة رأَيا رجلًا تحت شجرة قال: وهذا قبل خروج الستة الأنصاريين - قال: فلمّا رأيناه كلَّمناه فقلنا: نأتي هذا الرجلَ نستودعُه حتى نطوفَ بالبيت، فسلَّمنا عليه تسليمَ الجاهلية، فردَّ علينا بسلامِ أهل الإسلام، وقد سمعنا بالنبيِّ ﷺ، فأنكَرْنا، فقلنا: من أنت؟ قال:"انزِلُوا" فنزلنا، فقلنا: أين الرجلُ الذي يَدَّعي ويقولُ ما يقول؟ فقال:"أنا" فقلت: فاعرِضْ عليَّ، فعَرَضَ علينا الإسلامَ، وقال:"مَن خَلَقَ السماواتِ والأرض والجبالَ؟ قلنا: خلقَهنَّ الله، قال:"فمن خَلَقَكم؟ قلنا اللهُ، قال:"فمَن عَمِلَ هذه الأصنامَ التي تعبُدونَها؟ قلنا: نحن، قال:"فالخالقُ أحقُّ بالعبادة أم المخلوقُ؟ فأنتم أحقُّ أن يَعبُدوكم وأنتم عَمِلتُموها، واللهُ أحقُّ أن تَعبُدوه من شيء عَمِلتُموه، وأنا أدعو إلى عبادة الله، وشهادِة أن لا إله إلَّا الله، وأنِّي رسولُ الله، وصِلَةِ الرَّحِم، وتَركِ العُدوان بغَضب الناس"، قلنا: لا والله لو كان الذي تدعو إليه باطلًا، لكان من معالي الأمور ومَحَاسن الأخلاق، فأمسِكْ راحلتنا حتى نأتيَ البيتَ، فجلس عنده معاذُ بن عَفراءَ. قال: فجئتُ البيت فطُفتُ، وأخرجتُ سبعةَ أقداحٍ، فجعلتُ له منها قِدْحًا، فاستقبلتُ البيتَ فقلت: اللهمَّ إن كان ما يدعو إليه محمدٌ حقًّا، فأخرجْ قِدْحَه سبعَ مرَّات، فضربتُ بها، فخرج سبعَ مرَّاتٍ، فصحتُ: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنَّ محمدًا رسولُ الله، فاجتمع الناسُ عليَّ وقالوا: مجنونٌ، رجلٌ صَبَأَ، قلت: بل رجلٌ مؤمنٌ، ثم جئتُ إلى أعلى مكةَ، فلما رآني معاذٌ قال: لقد جاء رافع بوجهٍ ما ذهب بمثله، فجئتُ وآمنتُ وعلَّمَنا رسولُ الله ﷺ سورةَ يوسف و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾، ثم خرَجْنا راجعينَ إلى المدينة، فلما كُنَّا بالعقيق، قال معاذٌ: إنِّي لم أَطرُقْ أهلى ليلًا قطُّ، فبِتْ بنا حتى تُصبحَ، فقلت: أَبِيتُ ومعي ما معي من الخير! ما كنتُ لأفعلَ. وكان رافع إذا خرج سفرًا ثم قَدِمَ، عَرَّضَ قومَه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7241 - يحيى الشجري صاحب مناكير
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7241 - يحيى الشجري صاحب مناكير
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ آپ اور ان کے خالہ زاد بھائی معاذ بن عفراء نکلے اور مکہ مکرمہ میں آ گئے، جب یہ لوگ ثنیہ پہاڑی سے نیچے اترے تو انہوں نے ایک آدمی کو درخت کے نیچے دیکھا، راوی کہتے ہیں: یہ واقعہ 6 انصاریوں کے نکلنے سے پہلے کا ہے، آپ فرماتے ہیں: جب ہم نے اس آدمی کو دیکھا تو ہم نے (آپس میں) گفتگو کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس آدمی کے پاس جاتے ہیں اور اپنا سامان اس کے پاس رکھوا کر بیت اللہ کا طواف کر آتے ہیں، ہم اس کے پاس گئے، جاہلیت کے رواج کے مطابق اس کو سلام کیا، اس نے اسلام کے طریقے کے مطابق ہمیں سلام کا جواب دیا، ہم نبی کے بارے میں سن تو چکے تھے لیکن ابھی تک تسلیم نہیں کیا تھا۔ ہم نے اس سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اس نے کہا: نیچے اتر آؤ (تسلی سے بات کرتے ہیں) ہم نے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے جو نبوت کا دعویدار ہے، اور جو عجیب عجیب باتیں کرتا ہے؟ اس نے کہا: وہ میں ہی ہوں۔ میں نے کہا: آپ مجھ پر اسلام پیش کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر اسلام پیش کیا اور فرمایا: زمین، آسمان اور پہاڑوں کو کس نے بنایا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے پوچھا تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: یہ بت کس نے بنائے ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: ہم نے خود ہی بنائے ہیں۔ اس نے کہا: پیدا کرنے والا عبادت کا زیادہ حقدار ہے یا پیدا ہونے والا؟ تب تو تم اس بات کے زیادہ حقدار ہو کہ تمہاری عبادت کی جائے کیونکہ تم بتوں کے پیدا کرنے والے ہو، اور جس چیز کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اس کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو۔ میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو، اور گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور یہ بھی گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ صلہ رحمی کرو، لوگوں کے ساتھ غصہ کی وجہ سے دشمنی چھوڑ دو۔ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اگر تمہاری دعوت باطل بھی ہوئی تو (کوئی بات نہیں) اس طرح حسن سلوک سے پیش آنا بڑے اخلاق کی بات ہے۔ آپ ہماری سواری کا خیال کریں، ہم طواف کر کے آتے ہیں، معاذ بن عفراء اس کے پاس بیٹھ گئے اور میں نے جا کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ میں نے 7 تیر نکالے، ان میں سے ایک تیر میں نے اس لئے مقرر کر دیا، پھر میں بیت اللہ کی جانب متوجہ ہوا اور دعا مانگی ” اے اللہ! محمد جس چیز کی طرف بلاتا ہے، اگر وہ حق ہے تو ساتوں مرتبہ اسی کا تیر نکلے، پھر میں نے سات مرتبہ پانسہ ڈالا، ہر مرتبہ اسی کا تیر نکلا، میں نے چیخ کر کہا: اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ و ان محمد عبدہ و رسولہ۔ میری یہ بات سن کر لوگ میرے اردگرد جمع ہو گئے اور کہنے لگے: یہ مجنون آدمی ہے، اپنے دین سے منحرف ہو گیا ہے، میں نے کہا: (مجنون نہیں ہے) بلکہ یہ مومن شخص ہے۔ پھر میں مکہ کے بالائی علاقے میں آ گیا، جب معاذ نے مجھے دیکھا تو کہنے لگے: رفاعہ چہرے کی وہ نورانیت لے کر آ رہا ہے جو جاتے وقت اس کے چہرے پر نہیں تھی۔ میں آیا اور اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سورہ یوسف، اور اقراء بسم ربك الذی خلق پڑھائی۔ پھر ہم لوگ مدینہ کی جانب واپسی کے لئے نکلے، جب ہم مقام عقیق میں پہنچے تو معاذ نے کہا: میں کبھی بھی رات کے وقت اپنے گھر نہیں گیا، اس لئے تم رات میرے ساتھ یہیں گزارو، میں نے کہا: میرے پاس ایک ایسی خبر ہے کہ میں رات اس طرح گزار ہی نہیں سکتا، سیدنا رفاعہ کی عادت تھی کہ جب سفر سے واپس آتے تو ان کا قبیلہ ان کا استقبال کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7427]
حدیث نمبر: 7428
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلّاس النُّميري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وحدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو عاصم ومكّي بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا بَهْزَ بنَ حَكيم، عن أبيه، عن جده قال: قلتُ: يا رسولَ الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّكَ" قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك"، قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك" قلت: يا رسول الله، ثم مَن؟ قال:"ثم أباك" قلت: يا رسولَ الله، ثم مَن؟ قال:"ثم الأقربَ فالأقربَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں (فرماتے ہیں کہ) میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خدمت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں۔ میں نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں۔ میں نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حکیم بن معاویہ نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے (اور یہ روایت شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے) فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس کی خدمت کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کی۔ میں نے پوچھا: پھر کس کی؟ فرمایا: اپنی ماں کی۔ میں نے پوچھا: پھر کس کی؟ اپنی ماں کی۔ میں نے پوچھا: پھر کس کی؟ فرمایا: اپنے باپ کی، پھر جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث کے ہمیں شواہد بھی مل گئے ہیں۔ ان میں سے ایک درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7428]
حدیث نمبر: 7429
حدَّثَناه دَعلَج بن أحمد السِّجزيُّ، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عبيد الله بن الوازِع وحمّاد بن سَلَمة، عن أبي قَزْعَة سُوَيد بن حُجَير الباهلي، عن حَكيم بن معاوية (2) ، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم مَن؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أباك، ثم الأقربَ فالأقربَ (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: ثم وَجَدنا لهذا الحديث شواهدَ: فمنها:
7429 - حکیم بن معاویہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسنِ سلوک کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنی ماں کے ساتھ"۔ میں نے عرض کیا: "پھر کس کے ساتھ؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر اپنی ماں کے ساتھ"۔ میں نے (تیسری بار) عرض کیا: "پھر کس کے ساتھ؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر اپنی ماں کے ساتھ"۔ میں نے عرض کیا: "پھر کس کے ساتھ؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر اپنے باپ کے ساتھ، اور پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو (اس کے ساتھ)"۔ امام حاکم (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد (تائیدی روایات) ملے، جن میں سے ایک یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7429]
حدیث نمبر: 7430
ما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا، زائدة عن منصور، عن عُبيد بن علي، عن خِدَاش أبي سَلَامة، رجل من الصحابة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأبيه، أُوصِي امْرَأً بمولاه الذي يَليِه، وإن كان عليه فيه أذًى يُؤذيه" (1) . ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
خداش بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کی خدمت کی تاکید کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کی خدمت کی تاکید کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کی خدمت کی تاکید کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں، اگرچہ اس کو ان معاملات میں تکلیف ہی اٹھانی پڑے۔ دوسری شاہد حدیث یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7430]
حدیث نمبر: 7431
ما حدّثني أبو القاسم الحسن بن محمد بن السَّكُوني بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غَنّام، حدثني أبي، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن أبي عُتبة، عن عائشة قالت: قلت: يا رسولَ الله، أيُّ الناسِ أعظمُ حقًّا [على المرأة؟ قال:"زوجُها"، قلت: فأيُّ الناس أعظم حقًّا] (2) على الرَّجل؟ قال:"أُمُّه" (3) . ومنها:
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت پر کس کی خدمت کرنے کا سب سے زیادہ حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے شوہر کی۔ میں نے پوچھا: مرد پر سب سے زیادہ کس کی خدمت کرنے کا حق ہے؟ فرمایا: اپنی ماں کی۔ تیسری شاہد حدیث یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7431]