🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بِرَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر باپ کے ساتھ، پھر جو زیادہ قریبی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7428
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلّاس النُّميري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وحدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو عاصم ومكّي بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا بَهْزَ بنَ حَكيم، عن أبيه، عن جده قال: قلتُ: يا رسولَ الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّكَ" قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك"، قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك" قلت: يا رسول الله، ثم مَن؟ قال:"ثم أباك" قلت: يا رسولَ الله، ثم مَن؟ قال:"ثم الأقربَ فالأقربَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی شرط پر روایت نہیں کیا کیونکہ حکیم بن معاویہ سے بہز کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ ان سے ابو قزعہ باہلی نے بھی روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7428]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن وسلف برقم (6852).» [ترقيم الرساله 7428] [ترقيم الشركة 7338] [ترقيم العلميه 7242]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7429
حدَّثَناه دَعلَج بن أحمد السِّجزيُّ، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عبيد الله بن الوازِع وحمّاد بن سَلَمة، عن أبي قَزْعَة سُوَيد بن حُجَير الباهلي، عن حَكيم بن معاوية (2) ، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم مَن؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أباك، ثم الأقربَ فالأقربَ (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: ثم وَجَدنا لهذا الحديث شواهدَ: فمنها:
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. ولم نقف عليه من هذا الطريق.» [ترقيم الرساله 7429]

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7430
ما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا، زائدة عن منصور، عن عُبيد بن علي، عن خِدَاش أبي سَلَامة، رجل من الصحابة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأبيه، أُوصِي امْرَأً بمولاه الذي يَليِه، وإن كان عليه فيه أذًى يُؤذيه" (1) . ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
سیدنا خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ جو کہ ایک صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، اور میں آدمی کو اس کے اس قریبی رشتہ دار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو اس کے معاملات کا ذمہ دار ہو، اگرچہ وہ اسے کوئی تکلیف ہی کیوں نہ پہنچاتا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7430]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبيد بن علي - ويقال: عبيد الله بن علي، فقد تفرَّد بالرواية عنه منصور وهو ابن المعتمر - كما قد اختلف عليه فيه، وقد بينّا ذلك في التعليق على "مسند أحمد". وأما خِداش، فقد قال البخاري في "تاريخه" 3/ 220: لم يتبين سماعه من النبي ﷺ.» [ترقيم الرساله 7430] [ترقيم الشركة 7339] [ترقيم العلميه 7243]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة عبيد بن علي - ويقال: عبيد الله بن علي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7431
ما حدّثني أبو القاسم الحسن بن محمد بن السَّكُوني بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غَنّام، حدثني أبي، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن أبي عُتبة، عن عائشة قالت: قلت: يا رسولَ الله، أيُّ الناسِ أعظمُ حقًّا [على المرأة؟ قال:"زوجُها"، قلت: فأيُّ الناس أعظم حقًّا] (2) على الرَّجل؟ قال:"أُمُّه" (3) . ومنها:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے شوہر کا، میں نے عرض کیا: تو مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7431]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي عتبة، قال أبو حاتم الرازي: لا يُدرى من هو ولا يُعرف، وغنام بن حفص والد عبد الله لم نعرف حاله. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير.» [ترقيم الرساله 7431] [ترقيم الشركة 7340]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي عتبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7432
ما أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثة، قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول:"أُمَّكَ وأباك، وأُختَك وأخاك، ثم أدْناكَ أدْناكَ" (1) . ومنها:
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اپنی ماں اور اپنے باپ کے ساتھ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ (حسنِ سلوک کرو)، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7432]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع جعفر بن عون من المسعودي» [ترقيم الرساله 7432] [ترقيم الشركة 7341]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں