🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. أَوَّلُ مَا رَآهُ النَّبِيُّ مِنَ النُّبُوَّةِ أَنْ قِيلَ لَهُ اسْتَتِرْ
نبوت کی ابتدائی علامات میں سے یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ خود کو ڈھانپ لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7543
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدّثنا أبو يحيى الحِمَّاني عبدُ الحميد بن عبد الرحمن، حدّثنا النَّضر أبو عُمر (2) الخزّاز، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: كان أبو طالب يُعالج زمزمَ، وكان النبيُّ ﷺ ممن يَنقُلُ الحِجارةَ، وهو يومئذٍ غلامٌ، فأخذ النبيُّ ﷺ إِزارَه فتعرَّى واتَّقى به الحَجَر، فقيل لأبي طالب: أدرِكِ ابنَك، فقد غُشِي عليه، فلما أفاقَ النبيُّ ﷺ من غَشْيتِه، سأله أبو طالب عن غَشيتِه، فقال:"أتاني آتٍ عليه ثيابٌ بِيضٌ، فقال ليّ: استَتِرْ". فقال ابن عباس: فكان ذلك أولَ ما رآه النبيُّ ﷺ من النبوة أن قيل له: استَتِرُ، فما رُئِيَتْ عورتُه من يومِئذٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث أبي الطُّفيل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7356 - النضر أبو عمر الخزاز ضعفوه
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوطالب زمزم کی مرمت کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی (تعمیر کے لیے) پتھر اٹھا کر لانے والوں میں شامل تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لڑکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند (کمر سے کھول کر) کندھے پر رکھ لیا تاکہ پتھر کی رگڑ سے بچ سکیں (جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر کھل گیا)، ابوطالب سے کہا گیا: اپنے بھتیجے کو سنبھالیے، وہ بے ہوش ہو گئے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوشی سے ہوش میں آئے تو ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بے ہوشی کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ایک آنے والا آیا جس نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اپنا ستر چھپاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ پہلی چیز تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے آثار میں سے دیکھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ستر چھپاؤ، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر کبھی (کسی نے) نہیں دیکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7543]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، النَّضر» [ترقيم الرساله 7543] [ترقيم الشركة 7452] [ترقيم العلميه 7356]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7544
أخبرَناه محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، أبي الطُّفيل قال: لما بُنيَ البيتُ كان الناسُ يَنقُلُون الحجارةَ والنبيُّ ﷺ يَنقُلُ معهم، فأخذ الثوبَ ووضعه على عاتقه، فنُودي: لا تَكشِفْ عورتَك، فألقى الحَجَر ولَبِسَ ثوبَه (1) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو لوگ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ پتھر لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا (تاکہ پتھر کی رگڑ سے بچ سکیں)، تو غیب سے آواز دی گئی: اپنا ستر برہنہ نہ کرو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینک دیا اور اپنا کپڑا پہن لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7544]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم، وهذا الحديث من مراسيل الصحابة، لأنَّ أبا الطفيل» [ترقيم الرساله 7544] [ترقيم الشركة 7453] [ترقيم العلميه 7357]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7545
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيريّ، حدّثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدّثنا الحسن بن مُكرَم، حدّثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدّثنا بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، عوراتُنا ما نأتي منها، وما نَذَرُ؟ قال:"احفَظ عورتَك إلَّا من زوجتِك، أو ما مَلَكَت يمينُك" قلت: أرأيتَ إنْ كان قومٌ بعضُهم فوق بعض؟ قال:"إن استطعتَ أن لا يراها أحدٌ، فلا يَرَيَنَّها" قلت: أرأيتَ إنْ كان أحدُنا خاليًا؟ قال:"فالله أحقُّ أن يُستحيَى منه" ووضع يدَه على فَرْجِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری ستر پوشی کے متعلق کیا حکم ہے، ہم اس میں سے کیا چھپائیں اور کیا چھوڑ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی کے یا اس کے جو تمہاری ملکیت میں ہو (لونڈی)۔ میں نے عرض کیا: بتائیے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے (بھیڑ میں) ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ اسے کوئی نہ دیکھ سکے تو کوئی بھی اسے ہرگز نہ دیکھے۔ میں نے عرض کیا: بتائیے اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7545]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 7545] [ترقيم الشركة 7454] [ترقيم العلميه 7358]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں